| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیصل آباد میں ہڑتال
فیصل آباد میں بدھ کو کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے سربراہ اعظم طارق کے قتل پر احتجاج کے طور پر کاروبار مکمل طور پر بند رہا۔ کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے رہنما اور ملت اسلامیہ پاکستان کے فیصل آباد کے کنوینر حبیب الرحمان صدیقی نے شہر کے کاروباری نمائندوں سے ملاقات کرکے ان سے کاروباری ادارے بند رکھنے کی درخواست کی تھی جسے انجمن تاجران نے منظور کرلیا۔ منگل کومولانا اعظم طارق کی تدفین کے موقع پر فیصل آباد سمیت پنجاب کے کسی بڑے شہر میں کاروباری ادارے بند نہیں ہوۓ تھے اور ہڑتال صرف چھوٹے قصبوں تک محدود رہی تھی۔ مولانا اعظم طارق کو چھ اکتوبر کو اسلام آباد میں چار ساتھیوں سمیت فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ آج وفاقی وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے اعلان کیا ہے کہ مولانا اعظم طارق کے قاتلوں کے بارے اطلاع دینے والوں کو حکومت پچیس لاکھ روپے انعام دے گی۔ اس سے پہلے ملت اسلامیہ پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ جمعرات کے روز تک قاتلوں کو گرفتار نہیں کیاگیا تو وہ احتجاجی تحریک چلاۓ گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||