| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
تشدد کے واقعات میں ایک ہلاک
گزشتہ روز اسلام آباد میں چار محافظوں سمیت ہلاک ہونے والے کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے رہنما مولانا اعظم طارق کو دارالحکومت اسلام آباد سے ڈھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ان کے آبائی قصبے جھنگ میں سپردخاک کردیا گیا ہے۔ ان کی تدفین مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے کی گئی۔انہیں جامع محمودیہ مسجد کے احاطے میں کالعدم سپاہ صحابہ کے بانی حق نواز جھنگوی کی قبر کے برابر میں دفن کیا گیا ہے۔ نماز، جلوس جنازہ اور تدفین میں مولانا اعظم طارق کہ ہزاروں معتقدین اور ان کی جماعت کے کارکنوں کی بھی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔ اس دوران وہاں تعینات پولیس کی بھاری جمیعت کو ہوا میں گولیاں چلا کر ان افراد کو منتشر بھی کرنا پڑا جنہوں نے راستے میں ایک شیعہ مسجد کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ پولیس کو، جسے نیم فوجی رینجرز اور فوجی دستوں کی بھی پوری مدد حاصل تھی وہی پوری مشق ایک بار پھر دہرانی پڑی جو اس سے قبل شیخ حق نواز کی آخری رسومات کے موقع پر کی گئی تھی۔ شیخ حق نواز کو انیس سو نوے کی دہائی کے آغاز میں ایرانی سفارتکار صادق گنجی کی قتل کا جرم ثابت ہونے پر میانوالی جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ جھنگ کی ضلعی انتظامیہ نے اس موقع پر ضلع بھر میں کاروبار بند رکھنے کا حکم دیا تھا جبکہ ضلع بھر کے تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت تک کے لئے بند کردیئے گئے ہیں۔ ملک کے تقریباً چھ اضلاع میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس کی اضافی نفری طلب کرکے ایرانی قونصل خانے اور ایرانی صقافتی مرکز سمیت تمام حساس مقامات پر تعینات کردی گئی ہے۔ گزشتہ شب بعض دینی مراکز کے باہر بعض احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے جن میں درجنوں کارکنوں نے شرکت کی۔ منگل کی صبح شہر کے وسط میں واقع ریگل چوک پر ایک مسجد کے باہر ایک درجن کے قریب کارکن جمع ہوئے جنہوں نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کے لئے نعرے لگائے۔ تاہم اس احتجاج میں عوامی شرکت برائے نام رہی اور لاہور میں معمولات زندگی اور کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق رہیں۔ اس سے قبل مولانا اعظم طارق کی نماز جنازہ کے بعد پرتشدد واقعات میں کم سے کم ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔ اعظم طارق کی نماز جنازہ قومی اسمبلی کی عمارت کے سامنے پڑھائی گئی۔ نماز جنازہ کے بعد لوگ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے انتقامی نعرے بازی شروع کر دی۔ اس کے بعد شرکاء نے ایک جلوس کی شکل اختیار کرلی اور شہر میں توڑ پھوڑ شروع کر دی اور ملک کی شیعہ اقلیتی آبادی کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ جلوس نے ایک سنیما گھر کو بھی آگ لگادی جس میں ہسپتال کا ایک ملازم جل کر ہلاک ہوگیا۔ پولیس نے کہا ہے کہ تشدد کے واقعات میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے زخم کتنے سنگین ہیں۔ نماز جنازہ کے بعد مولانا اعظم طارق کی میت تدفین کے لئے جھنگ پہنچائی گئی جہاں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||