| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف قتل سازش، گواہیاں مکمل
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کو قتل کرنے کی مبینہ سازش کے مقدمے میں سنیچر کو گواہوں کے بیانات مکمل ہو گئے ہیں۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ وہ ملزمان کو سزائے موت دلوانے کا مطالبہ کرے گی۔ مقدمے کی آئندہ سماعت گیارہ اکتوبر کو کی جائے گی۔ صدرِ پاکستان پرویز مشرف کے قتل کی مبینہ سازش کے ملزمان کا تعلق حرکت المجاہدین العالمی نامی تنظیم سے بتایا گیا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت اس مقدمے کی سماعت کر رہی ہے جس میں استغاثہ کے مطابق حرکت المجاہدین العالمی نامی تنظیم کے کچھ کارکنوں نے گزشتہ برس صدر جنرل پرویز مشرف کی کراچی آمد پر انہیں خودکش بم دھماکے سے قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ یہ منصوبہ ناکام ہو گیا تھا کیونکہ الیکٹرک سوئچ نے عین وقت پر کام نہیں کیا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ایوب، محمد عمران، ارسلان شارب، محمد اشرف اور رینجرز کے ایک انسپکٹر وسیم اختر اس سازش میں ملوث ہیں۔ مقدمے کی سماعت تقریباً چھ ماہ جاری رہی جس میں استغاثہ نے نو میں سے چھ گواہ اور وکلاء صفائی کی طرف سے چار گواہ پیش کیے گئے۔ سنیچر کو ہونے والی سماعت کے دوران دو گواہ پیش ہوئے۔ صدر جنرل پرویزمشرف کے سکیورٹی چیف عزیز الرحمٰن نے بتایا کہ انہوں نےشاہراہ پر ٹریفک رکنے کے بعد صدر کے کارواں کو گزرنے کی کلیئرنس دی تھی اور اس وقت سڑک پر کوئی گاڑی موجود نہیں تھی۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مادے سے بھری گاڑی سروس روڈ پر کھڑی تھی۔ بعد میں یہی گاڑی امریکی قونصل خانے پر کیے گئے دھماکے میں استعمال کی گئی۔ اس مقدمے میں عمران اور ان کے دیگر ساتھیوں کو سزا ہو چکی ہے۔ جیل میں مقدمے کی سماعت کے بعد استغاثہ کے وکیل مولا بخش بھٹی نے کہا کہ گیارہ اکتوبر کو ہونے والی آئندہ سماعت کے موقع پر ملزمان کے لیے موت کی سزا کا مطالبہ کیا جائے گا۔ وکیلِ صفائی عبدالوحید کٹپر نے بتایا کہ پولیس انسپکٹر علی حسن کی طرف سے پیش کی گئی کیس بُک میں تبدیلی کی گئی ہے اور پہلے حملے کی تاریخ ستائیس اپریل بتائی گئی تھی جسے بعد میں تبدیل کر کے چھبیس اپریل کر دیا گیا۔ آئندہ سماعت کے موقع پر وکلاء استغاثہ اور وکلاء صفائی اپنے دلائل پیش کریں گے۔ اس مقدمے میں ملزمان کو موت کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے جس کے خلاف پہلے سندھ ہائی کورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||