BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 September, 2003, 14:05 GMT 18:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور میں گیارہ قتل

لاہور میں بارہ قتل
لاہور میں بارہ قتل

لاہور میں بدھ کو دو الگ الگ واقعات میں گیارہ افراد قتل کردیے گۓ جن میں ایک واقعہ میں شہر کے سابق میئر خواجہ ریاض کے بیٹے اور دوسرے میں مسلم لیگ (ن) کی کارکن نگینہ خانم اور ان کے خاندان کے افراد شامل ہیں۔

علامہ اقبال ٹاؤن کے علاقے زینت بلاک میں نگینہ بیگم ایک جانی پہچانی شخصیت تھیں جو مسلم لیگ کے بنیادی یونٹ کی صدر بھی رہیں اور فلمی صنعت سے بھی ان کاتعلق تھا۔

بدھ کو بارہ بجے دن علامہ اقبال ٹاؤن کی پولیس کو اطلاع ملی کہ نگینہ بیگم اور ان کے خاندان کے افراد اور ملازموں سمیت آٹھ افراد کو قتل کردیا گیا ہے۔ قتل ہونے والوں میں نگینہ خانم، پشتو فلموں کے ڈائریکٹر ناصر رضا خان، انکی بیٹی عنبر، دو پوتے عمران اور کامران، ایک ملازم حیات ، ایک ملازمہ (نام نامعلوم)، اور نگینہ کی ایک کزن چندہ شامل ہیں۔

پولیس لاشوں کو میوہسپتال کے مردہ خانہ میں لے گئی جہاں شام تک ان کا پوسٹ مارٹم ہورہا تھا۔ پولیس اہلکاروں کے ابتدائی بیان کے مطابق زیادہ افراد کے چہروں پر گولیاں ماری گئی ہیں جس سے دہشت گردی کا شبہہ ہوتا ہے۔

پولیس کے اہلکاروں کا کہنا ہے نامعلوم افراد نے نگینہ خانم کے مکان میں صبح آٹھ بجے سے گیارہ بجے کے درمیان گھس کر فائرنگ کی اور اہل محلہ کی اطلاع پر پولیس وہاں پہنچی۔ تاہم حملہ آور فرار ہوگۓ تھے۔

دوسری طرف، لاہور کے سابق میئر خواجہ ریاض کے بیٹے خواجہ رضوان کو ، عمر پینتالیس سال، جو ٹریفک پولیس کے انسپکٹر تھے، رنگ محل چوک کے پاس دوپہر بارہ بجے کے قریب دو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔

خواجہ رضوان ایک پولیس کی گاڑی میں تھے اور پولیس کانسٹیبل یوسف اور ان کا ایک دوست ڈاکٹر شاہد ان کے ساتھ تھے اور وہ بھی موقع پر ہلاک ہوگۓ۔

خواجہ رضوان کے بھائی خواجہ عمران نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ خواجہ رضوان کی موت ان کے پیٹ میں ایک گولی لگنے سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ان کے بھائی یا خاندان کی کسی سے دشمنی نہیں تھی اور وہ نہیں جاتنے کہ اس قتل کا محرک کیا ہو سکتا ہے۔

خواجہ رضوان کے والد خواجہ ریاض، نواز شریف دور میں لاہور کے مئیر تھے لیکن نواز شریف کی معزولی کے بعد مسلم لیگ(ق) میں چلے گۓ۔ ان کے قتل ہونے والے بیٹے کو نواز شریف دور میں پولیس میں بھرتی کیا گیا تھا۔

لاہور پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز آفتاب چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی وہ قتل کے ان دونوں واقعات کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ابھی تو پوسٹ مارٹم بھی مکمل نہیں ہوا اور ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوئی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد