BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 September, 2003, 17:21 GMT 21:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان سرحد پر پاک فوج

pak,army deployment
پاک فوج کی تعیناتی

صوبہ بلوچستان سے منسلک پاک افغان سرحد پر باقاعدہ طور پر فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ القاعدہ اور مشتبہ طالبان کی نقل وحرکت کو روکا جاسکے۔

ابتدائی مرحلے میں چمن اور قمر دین کاریز کے علاقوں کے لئے فوج تعینات کی گئی تھی۔

چمن سے اطلاعات کے مطابق فوج اور فرنٹئیر کور یعنی نیم فوجی دستوں نے سرحد پر مورچے قائم کر لیے ہیں اور باقاعدہ گشت بھی شروع کر دیا ہے۔

پیر کو کوئٹہ سے ایک اعلٰی فوجی افسر جنرل شمیم نے بھی علاقے کا دورہ کیا ہے اور فوج کے لیے موجودہ انتظامات کا جائزہ لیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ فوج کو سرحد پر تمام مواصلاتی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کے فرنٹیئر کور یوں تو سرحدی علاقوں میں موجود رہتی ہے لیکن باقاعدہ سرحد پر کوئی چھ سو کے لگ بھگ جوان بھیجے گئے ہیں جو فوج کے ہمراہ سرحد کی حفاظت پر معمور ہیں۔

بلوچستان سے منسلک سرحد پر پہلی مرتبہ باقاعدہ فوج بھیجی گئی ہے اس سے پہلے صوبہ سرحد سے منسلک قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں بھی فوج کو سرحد کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ فوجی اور نیم فوجی دستوں کو پاک افغان سرحد پر القاعدہ اور مشتبہ طالبان کی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر فوجی اور نیم فوجی دستے چمن، توبہ اچکزئی اور قمر دین کاریز میں فرائض سر انجام دیں گے جب کے اس کے ساتھ ساتھ چاغی کے قریب پاک افغان سرحد پر بھی فوجیں تعینات کی جائیں گی۔

یہاں یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ سرحد پر کوئئ ڈیڑھ سو نئی چوکیاں بھی قائم کی جائیں گی اور فوجیوں کی تعداد بھی بڑھائی جائے گی تا حال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ کتنی تعداد میں فوجی سرحد کی جانب روانہ کئے گئے ہیں۔ فی الحال آرمی کو سکام کانڑہ سے دوبندی کے علاقے تک تعینات کیا گیا ہے جو سو کلو میٹر سے زیادہ فاصلہ ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ فوجی کی سرحد پر تعیناتی افغان حکام کے مطالبے پر کی گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے افغانستان پاکستان اور امریکہ کے افغانستان میں تعینات اہلکاروں کا اجلاس چمن کے قریب سرحد پر منعقد ہوا تھا جس میں سرحد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

افغان حکام یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ القاعدہ اور مشتبہ طالبان پاکستان کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہیں اور افغانستان میں کارروائیاں کرکے انھی قبائلی علاقوں میں چھپ جاتے ہیں۔ موجودہ اقدامات بھی افغان حکام کے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے کیے گے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد