’انڈین وزیر داخلہ آئندہ ہفتے پاکستان آئیں گے‘

،تصویر کا ذریعہbbc
پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ انڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ آئندہ ہفتے اسلام آباد میں سارک وزرائے داخلہ کانفرنس میں شرکت کے لیے آئیں گے۔
جمعرات کو پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران انڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے دورۂ پاکستان کی تصدیق کی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بریفنگ کے دوران کہا کہ انڈیا کے راج ناتھ سنگھ جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان آ رہے ہیں۔
٭ <link type="page"><caption> ’کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ انڈیا نہیں کشمیری کریں گے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/07/160724_sartaj_aziz_kashmir_atk.shtml" platform="highweb"/></link>
انڈیا کے وزیرداخلہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے معاملے کو اٹھانے کے حوالے سے سوال کے جواب میں نفیس ذکریا نے کہا کہ ’انھیں فی الحال راج نات سنگھ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے ایجنڈے کا علم نہیں۔ تاہم اگر ان کے ساتھ پاکستانی حکام کی کوئی ملاقات ہوئی تو کشمیر کا معاملہ ان کے ایک اہم ایجنڈے میں سے ہوگا۔‘
سارک کانفرنس آئندہ ماہ تین اور چار اگست کو پاکستان میں ہو رہی ہے۔
انڈیا کے وزیر داخلہ کا دورۂ پاکستان ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پیش آنے والے حالیہ واقعات پر کشیدگی پائی جاتی ہے اور دونوں ممالک کے جانب سے سخت بیانات کا تبادلہ بھی ہو رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ دنوں راج ناتھ سنگھ نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا دورہ کیا تھا اور اپنے دورے کے دوران کا کہنا تھا کہ ’کشمیر میں پاکستان کا کردار صحیح نہیں ہے۔ کشمیر پر پاکستان کو اپنی سوچ بدلنی چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے قبل انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان انڈیا کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر ملک میں کسی بھی طرح کی دہشت گردی ہے تو وہ پاکستان کی حمایت یافتہ ہے۔
اس پر پاکستان کے مشرِ خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ ’وقت آگیا ہے کہ انڈیا جموں اور کشمیر کے عوام کو اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں کرائے جانے والی رائے شماری میں حقِ خود ارادیت کو موقع فراہم کرے، جب عوام کی اکثریت انڈیا یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرے گی تو دنیا کشمیری عوام کا فیصلہ تسلیم کرے گی۔‘







