’آج ہم بےبس اور یتیم ہوگئے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی کے علاقے میٹھادر میں گنجان آبادی کی درمیان واقع عبدالستار ایدھی کے گھر پر صبح سے لوگوں کا مجمع تھا۔ اندر ان کے صاحبزادے فیصل ایدھی تھے اور سامنے ہی ان کے والد کی لاش موجود تھی۔
یہ وہی کمرا تھا جس میں عبدالستار ایدھی بیٹھ کر انتظامی امور سرانجام دیتے تھے۔ آج وہاں سٹریچر رکھ کر ان کا آخری دیدار کرایا جا رہا تھا۔
لوگ دونوں ہاتھ باندھ کر احترام کے ساتھ ایسے کمرے میں داخل ہوتے جیسے عام طور پر مزاروں میں داخل ہوا کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض ایدھی کے ساتھ عقیدت کے لیے سر پر ہاتھ پھیرتے اور آگے بڑھ جاتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
ساتھ والے کمرے میں بلقیس ایدھی اور ان کی بیٹیاں موجود تھیں جن کے پاس رشتے دار خواتین کی آمد جاری تھی۔ عمارت میں واقع ڈسپینسری معمول کے مطابق کھلی تھی جس میں ڈاکٹر اور دیگر سوگوار عملہ موجود تھا۔ البتہ صبح ساڑھے دس بجے تک کوئی مریض نہیں آیا تھا۔
میٹھادر سے ایدھی سینٹر ٹاور پہنچے تو وہاں بھی خاموشی تھی۔ سٹاف میڈیا کیمروں کے گھیرے میں تھا اور ان سے ایدھی کی شخصیت اور رویے کے بارے میں سوالات جاری تھے۔ یہ ملازم اس طرح بیان کر رہے تھے جیسے اپنے کسی بزرگ کے بارے میں بات کر رہے ہوں۔
فیصل ایدھی نے پہلے نمازِ جنازہ میمن مسجد بولٹن مارکیٹ میں ادا کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے بتایا تھا کہ نماز کے انتظامات نیشنل سٹیڈیم میں کیے جا رہے ہیں کیونکہ حکومت سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین چاہتی ہے۔

نیشنل سٹیڈیم کے اندر اور اطراف میں سکیورٹی اور انتظامی امور پاکستان فوج نے سنبھال رکھے تھے، عام شہریوں کو تین داخلی راستوں کے ذریعے تلاشی کے بعد اندر جانے کی اجازت تھی۔ لوگ قطاروں کے ذریعے اندر داخل ہو رہے تھے۔
مائیک پر لوگوں کو سختی سے ہدایات جاری ہوتی رہیں کہ وہ صفیں باندھ کر رکھیں، زمین پر نہ بیٹھیں اور آگے نہ بیٹھیں۔ پہلی صف میں پاکستان فوج، نیوی، ایس ایس جی، میرین اور رینجرز کے اہلکار اور قیادت موجود تھی جبکہ ان کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے رہنما موجود تھے جبکہ خاردار تار کے پیچھے عام لوگ موجود تھے۔
میڈیا کو انکلوژر تک محدود رکھا گیا جس وجہ سے انھیں جالیوں کے دوسری طرف کوریج میں مشکلات پیش آئیں۔ میڈیا کو بھی سکیورٹی کے تین مراحل سے گزر کر کے اندر جانے کی اجازت تھی۔ بعد میں آئی ایس پی آر کے مقامی افسران نے کچھ صحافیوں کو سٹیڈیم کی چھت سے کوریج کی اجازت دی۔ اس دوران فوج کا دستہ گارڈ آف آنر کی مشق کرتا نظر آیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صدر مملکت، فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، چیئرمین سینیٹ رضا ربانی، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ تقریباً ایک ساتھ سٹیڈیم میں داخل ہوئے۔ انھیں اگلی صف میں جگہ دی گئی۔ اس موقعے پر فیصل ایدھی جنرل راحیل شریف کے ساتھ موجود تھے۔
ایدھی کی میت پاکستان کے قومی پرچم میں لپیٹ کر توپ گاڑی پر لائی گئی، جس پر گلاب کی پتیاں بچھی ہوئی تھیں۔ فوجی دستے نے میت کو کندھے پر اٹھایا اور نماز کے لیے سامنے رکھ دیا۔ اسی دوران اللہ اکبر کے نعرے بلند ہوتے رہے۔
نماز اور دعا کے بعد پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ فوج کے اہلکاروں نے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، صدر مملکت اور وزرائے اعلیٰ کو راستہ بنا کر دیا جبکہ لوگ میت کو کندھا دینے کے لیے بے چین تھے۔ اسی دوران دھماکے کی آواز آئی جس سے لوگ کے چہروں پر پریشانی کے آثار نمودار ہوئے، تاہم بعد میں پتہ چلا کہ توپوں کی سلامی پیش کی جا رہی ہے۔
فادر صالح ڈیاگو اپنے ساتھ ایدھی کی میت کے لیے پھول لائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایدھی خدا کی طرف سے بہت بڑا تحفہ تھے جو انسانیت کی بہت زیادہ قدر کرتے اور ان کی خدمت میں انھوں نے اپنا ساری زندگی وقف کر دی، ایدھی نے جو انسایت کی خدمت کی اس کو بھول نہیں پائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک عام شہری نے غمزدہ لہجے میں بتایا کہ جو کام حکومت کی ذمہ داری تھی وہ ایدھی صاحب ادا کرتے تھے۔’آج ہم بےبس اور یتیم ہوگئے ہیں۔‘
نیشنل سٹیڈیم میں لوگوں کی وہ تعداد جمع نہیں ہو سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ ایک صحافی کے مطابق سکیورٹی چیکنگ اور آبادی سے دوری کی وجہ سے لوگوں کی شرکت کم رہی۔
عبدالستار ایدھی کی میت کو سپر ہائی وے پر واقع ایدھی ولیج منتقل کیا گیا، لاوارث بچوں، بزرگوں اور ذہنی مریضوں کے اس گھر کے ایک ویرانے کونے میں عبدالستار ایدھی نے اپنے لیے قبر تیار کرائی تھی، جہاں انھیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔







