ایدھی کا آخری سفر

عبدالستار ایدھی کی نمازِ جنازہ کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں ادا کی گئی جس میں اعلیٰ شخصیات کے علاوہ عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی

کراچی میں فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کی نمازِ جنازہ کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں ادا کرنے کے بعد ایدھی ویلیج میں سپردخاک کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکراچی میں فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کی نمازِ جنازہ کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں ادا کرنے کے بعد ایدھی ویلیج میں سپردخاک کر دیا گیا۔
نمازِ جنازہ میں اعلیٰ شخصیات کے علاوہ عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننمازِ جنازہ میں اعلیٰ شخصیات کے علاوہ عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی ہے۔
عبدالستار ایدھی کے جسد خاکی کو سنیچر کی صبح سرد خانے سے میٹھا در میں واقع اُن کی رہائش گاہ منتقل کیا گیا جہاں غسل کے بعد قومی پرچم میں لپٹی ان کی میّت توپ گاڑی پر رکھ کر نیشنل سٹیڈیم لے جائی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعبدالستار ایدھی کے جسد خاکی کو سنیچر کی صبح سرد خانے سے میٹھا در میں واقع اُن کی رہائش گاہ منتقل کیا گیا جہاں غسل کے بعد قومی پرچم میں لپٹی ان کی میّت توپ گاڑی پر رکھ کر نیشنل سٹیڈیم لے جائی گئی۔
عبدالستار ایدھی کے صاحب زادے فیصل ایدھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی تھی کہ عبدالستار ایدھی کے جنازے کے لیے سڑکیں بند نہ کی جائیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعبدالستار ایدھی کے صاحب زادے فیصل ایدھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی تھی کہ عبدالستار ایدھی کے جنازے کے لیے سڑکیں بند نہ کی جائیں۔
سنیچر کی صبح سے ہی لوگ نیشنل سٹیڈیم میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنیچر کی صبح سے ہی لوگ نیشنل سٹیڈیم میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے
نمازِ جنازہ کے بعد پاکستانی فوج کے دستے نے ایدھی کو گارڈ آف آنر پیش کیا جبکہ ان کی میت کو توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننمازِ جنازہ کے بعد پاکستانی فوج کے دستے نے ایدھی کو گارڈ آف آنر پیش کیا جبکہ ان کی میت کو توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔
عوام کی بہت بڑی تعداد بھی جنازے میں شریک ہوئی اور نماز سے قبل شہریوں کے لیے مخصوص دروازوں پر طویل قطاریں دیکھی جا سکتی تھیں۔
،تصویر کا کیپشنعوام کی بہت بڑی تعداد بھی جنازے میں شریک ہوئی اور نماز سے قبل شہریوں کے لیے مخصوص دروازوں پر طویل قطاریں دیکھی جا سکتی تھیں۔
فوج کے دستے سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنفوج کے دستے سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
ایدھی ٹرسٹ کی ڈسپنسری کے باہر ایک رضاکار۔
،تصویر کا کیپشنایدھی ٹرسٹ کی ڈسپنسری کے باہر ایک رضاکار۔
سوگوار ایدھی کے گھر کے باہر۔
،تصویر کا کیپشنسوگوار ایدھی کے گھر کے باہر۔
ایدھی ٹرسٹ کے رضاکار۔
،تصویر کا کیپشنایدھی ٹرسٹ کے رضاکار۔
ایدھی ٹرسٹ کے مراکز میں آج بھی کام جاری ہے۔
،تصویر کا کیپشنایدھی ٹرسٹ کے مراکز میں آج بھی کام جاری ہے۔