’دہشت گردوں کا ایکشن پلان فل سوئنگ میں‘

امجد غلام فرید صابری کے کراچی میں قتل کی خبر نشر ہونے کے ساتھ ہی اُن کا نام سوشل میڈیا پر صفِ اول کا ٹرینڈ بن گیا۔
ٹوئٹر پر تبصرے کرنے والوں کی اکثریت جہاں حیرت کا اظہار کرتی نظر آئی کہ آخر کوئی ایک قوال کو کیوں مارے گا وہیں کراچی میں جاری آپریشن اور حکومت کی کارکردگی بھی تنقید کا نشانہ بنی۔
بختاور بھٹو زرادری نے ٹویٹ کی کہ ’وہ صرف محبت اور امن کا پیغام دیتے تھے۔‘
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس پر ردِ عمل میں ٹویٹ کی کہ ’مشہور قوال امجد صابری اور ان کے ساتھیوں کے قتل پر صدمے میں ہوں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کی عملداری کی ناکامی ہے۔‘
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما واسع جلیل نے لکھا ’میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے، اپنے پیارے بھائی امجد صابری کی ہلاکت پر میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔ اللہ غریقِ رحمت کرے۔ جنھوں نے مارا ہے انہیں اللہ ایسے ہی انجام سے دوچار کرے۔‘

گلوکارہ حدیقہ کیانی نے لکھا ’امجد صابری کے بارے میں خبر سنی، میں صدمے میں ہوں۔ ایک عظیم گلوکار۔ ان کے خاندان کے لیے دعا گو ملک کے لیے دعا گو ہوں۔‘
اداکار اور سندھ سنسر بورڈ کے رکن فخرِ عالم نے لکھا کہ ’امجد صابری کے اہلِ خانہ کے مطابق انھوں نے تحفظ کے لیے درخواست دی تھی لیکن ہوم ڈپارٹمنٹ نے کچھ نہیں کیا۔ شرم ناک‘
اینکر عاصمہ شیرازی نے لکھا ’دہشت گردوں کا ایکشن پلان زوروشور سے جاری ہے ہمارا نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ثنا بُچہ نے لکھا ’امجد صابری کے قتل پر شدید دکھ ہوا ہے۔ وہ ایک عظیم انسان تھے جنہیں یاد رکھا جائے گا۔‘
عثمان احمد نے ٹویٹ کی ’کوئی معاشرہ جو اپنے بہترین لوگوں کا قتلِ عام کرتا ہے بہترین لوگ رکھنے کا حقدار نہیں رہتا۔‘







