’اقتصادی راہداری سے پاکستان ایشین ٹائیگر بنےگا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان میں چین کے سفیر سن وی ڈونگ کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کی گنجائش میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے اور اقتصادی راہداری کے منصوبے کی تکمیل سے پاکستان کا ایشین ٹائیگر بننے کا خواب پورا ہو جائےگا۔
انھوں نے یہ بات سرکاری ذرائع ابلاغ کو مشترکہ انٹرویو میں کہی۔
چینی سفیر کا کہنا تھا کہ اقتصادی راہداری سے توانائی، انفراسٹرکچر اور گوادر پورٹ کی ترقی ممکن ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ تعاون کے اس لائحہ عمل کے تحت توانائی کے بڑے منصوبے زیر تعمیر ہیں جن سے پاکستان میں توانائی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
اقتصادی راہداری کے اہم منصوبوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ شاہراہ قراقرم، لاہور کراچی موٹر وے اور فائبر کیبل کا رابطہ اہم منصوبے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گوادر پورٹ کی گنجائش میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے اور گوادر فری زونز کی تعمیر کے آغاز کے علاوہ گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔
سن وی ڈونگ نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری، معاشی، ترقی اور اقتصادی روابط کے حوالے سے پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہے۔
دوطرفہ تجارت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے مابین دوطرفہ تجارت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی سالانہ شرح ترقی 80.03 فیصد ہے۔ ’پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کے لحاظ سے چین سب سے بڑا ملک ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغانستان میں امن لانے کے لیے کوششوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے چینی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین افغانستان میں امن اور مفاہمتی عمل میں تعاون کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی افواج کے درمیان انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیاب کوششوں پر اس کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مکمل تعاون کرے۔
دوسری جانب وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان اور چین کا دو طرفہ پراجیکٹ نہیں ہے بلکہ اس سے جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کو ملائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی راہداری سے چین یورپ اور افریقہ تک رسائی حاصل کر پائے گا اور پاکستان اس حوالے سے سمندری اور فضائی روٹس کے ذریعے یہ رسائی ممکن بنائے گا۔







