صفورا کیس: مقدمات فوجی عدالت بھیجنے کے خلاف درخواست مسترد

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے میں مبینہ سہولت کاری کے الزام میں گرفتار تین ملزمان کے مقدمات کو فوجی عدالت میں منتقل کرنے کے خلاف درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس ظفر احمد راجپوت پر مشتمل ڈویزن بینچ نے منگل کو سماعت کے موقع پر تینوں ملزمان کی درخواستوں کو رد کر دیا۔

فشر مین کوآپریٹو سوسائٹی کے وائس چیئر مین قمر سلطان صدیقی، ان کے بھائی حسین صدیقی اور کارپیٹ ڈیلر محمد نعیم ساجد پر الزام ہے کہ انھوں نے صفوراں واقعے میں ملوث ملزمان کی مالی معاونت کی تھی۔

وکلا کا موقف تھا کہ ملزمان کا صفوراں واقعے سے تعلق نہیں ہے، یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے اس کو فوجی عدالت میں منتقل نہ کیا جائے۔

تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ مقدمے کی تفصیلات کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا گیا ہے اور حکومت نے یہ مقدمہ فوجی عدالت میں بھیجنے کے تمام لوازمات اور تقاضے پورے کیے ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ صوبائی ایپکس کمیٹی نے دہشت گردی کے 18 مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے لیے وفاقی ایپکس کمیٹی کو بھیجے تھے جن میں صفورا واقعے کا مقدمہ بھی شامل ہے۔

ملزمان کے وکلا کے مطابق صوبائی حکومت نے مقدمے کی فوجی عدالت میں منتقلی کے لیے انصاف کے تقاضے بھی پورے نہیں کیے، انھوں نے یہ شبہ بھی ظاہر کیا کہ ان کے موکل کو شفاف انصاف فراہم نہیں کیا جائے گا۔

عدالت نے اپنی تحریری فیصلے میں کہا کہ ملزمان کو فیئر ٹرائل کا موقع دیا جائے گا اور سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔

قمر سلطان صدیقی، ان کے بھائی حسین صدیقی اور محمد نعیم ساجد کو رینجرز نے گرفتار کرکے 90 روز تحویل میں رکھا تھا جس کے بعد انھیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

یاد رہے کہ فوجی عدالت صفورا واقعے کے مرکزی ملزمان سعد عزیز اور طاہر منہاس سمیت پانچ ملزمان کو سزائے موت سنا چکی ہے۔

گذشتہ سال 13 مئی کو اسماعیلی برداری کی بس پر حملے میں 45 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔