خان پور میں قدیم ترین خوابیدہ بدھ کی دریافت

اس بت کی لمبائی 49 فٹ ہے: ڈاکٹر عبدالصمد
،تصویر کا کیپشناس بت کی لمبائی 49 فٹ ہے: ڈاکٹر عبدالصمد
    • مصنف, عنبر شمسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے خانپور میں دریائے ہرو کے قریب بامالا کے مقام پر بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کا خوابیدہ حالت میں بت دریافت کیا گیا ہے جسے دنیا کا قدیم ترین ’خوابیدہ بدھ‘ کہا جا رہا ہے۔

یہ دعویٰ صوبہ خیبر پختونخوا کے آثارِ قدیمہ کے محکمے کا ہے جو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں کیا گیا ہے۔

اس تقریب کا موضوع خیبر پختونخوا میں آثارِ قدیمہ کی حالیہ دریافتیں اور ان کا خطے کی تاریخ پر اثر ہے۔

تقریب میں 35 پاکستانی اور 12 غیر ملکی محقق اپنی تحقیقات پیش کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی محققین کا تعلق امریکہ، جاپان، کوریا، اٹلی، کینیڈا اور برطانیہ سے ہے۔

کانفرنس میں بتایا جائے گا کہ کن کن نئے مقامات کی دریافت ہوئی، کون سی نئی کھدائیاں کی گئیں اور کن تاریخی مقامات کا تحفظ کیا گیا ہے۔ اس کانفرنس میں آٹھ مقامات کی ڈیجیٹل فلم بندی بھی کی گئی ہے۔

صوبہ خیبر پخونخوا کے محکمہ آثارِ قدیمہ اور عجائب گھر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالصمد کا کہنا ہے کہ خوابیدہ بدھ جزوی طور پر مکمل ہے اور اس کو محفوظ کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔

’افغانستان، تھائی لینڈ اور سری لنکا میں ایسے بدھ موجود ہیں لیکن پاکستان میں اس کی دریافت پہلی بار ہوئی ہے۔ اس بدھ کی لمبائی 49 فٹ ہے اور ہم نے امریکہ سے اس کی تاریخ کا تعین کروایا تو معلوم ہو کہ اس کا تعلق دوسری اور تیسری صدی سے ہے۔ یہ ابھی تک علاقے کا سب سے پرانا سلیپنگ بدھ ہے۔ اس بدھ کی کھدائی دو سال قبل شروع کی گئی تھی۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ آٹھ ایسے مقامات ہیں جنھیں لاہور کی لمز یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کمپیوٹر کے ذریعے محفوظ کیا جا رہا ہے۔

خوابیدہ یا سلیپنگ بدھ جزوی طور پر مکمل ہے اور اس کو محفوظ کرنے پر کام کیا جا رہا ہے
،تصویر کا کیپشنخوابیدہ یا سلیپنگ بدھ جزوی طور پر مکمل ہے اور اس کو محفوظ کرنے پر کام کیا جا رہا ہے

ڈاکٹر عبدل صمد کے مطابق ’بامالا، تخت بھائی، جولیاں اور سوات میں تین چار ایسے مقامات ہیں جنھیں تھری ڈی نقش بندی کے ذریعے محفوظ کیا جا رہا ہے تاکہ اگر کوئی قدرتی آفت اور انسانی مداخلت سے نقصان ہو، تو ہمارے پاس ریکارڈ رہے۔‘

ڈاکٹر عبدالصمد نے بتایا کہ اس کام کے لیے پاکستان میں تکنیکی صلاحیت اور انسانی وسائل کم ہیں۔

’صرف خیبر پختونخوا میں چھ ہزار ایسے تاریخی اور قدیم مقامات اور 12 عجائب گھر ہیں۔ ہماری کوشش یہ ہو گی کہ بیرونِ ملک سے آنے والے ماہرین ہمارے لوگوں کو تربیت دیں یا ہمارے لوگ باہر جا کر تربیت حاصل کریں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں سیاحت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کے باوجود سنہ 2001 سے بیرونی سیاحوں کی پاکستان آمد بہت کم ہو گئی ہے۔