اورنج لائن ٹرین منصوبے پر احتجاج جاری

- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور میں اپوزیشن جماعتیں ایک طویل عرصے کے بعد پنجاب حکومت کے اورنج لائن ٹرین منصوبے کے خلاف سڑکوں پر نکلی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ق) کے کارکن اپنی جماعتوں کے جھنڈے اور پلے کارڈز اٹھائے منگل کو مال روڈ پر جمع ہوئے۔
ان سیاسی کارکنوں کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ اورنج لائن ٹرین منصوبے پر کام فوری طور پر روکا جائے۔
یہ اورنج لائن ٹرین منصوبے کے خلاف پہلا احتجاج نہیں تھا۔ اس سے پہلے بھی سول سوسائٹی اور ٹرین کے روٹ سے متاثر ہونے والے شہری اس منصوبے کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں لیکن اس میں اتنی شدت نہیں تھی۔
اورنج لائن ٹرین منصوبے کے خلاف لاہور کے جنرل پوسٹ آفس سے نکالی گئی اس ریلی میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے ساتھ اقلیتوں، وکلا اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

مظاہرے میں شریک ایک خاتون خالدہ علی کا کہنا تھا ’ابھی گذشتہ برس ملتان روڈ کی تعمیر و مرمت کا کام مکمل کیا گیا تھا اور اب اسے پھر کھود دیا گیا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر حکومت کی منصوبہ بندی کیا ہے۔؟‘
27 کلومیٹر طویل اس ریلوے ٹریک کا کچھ حصہ زیر زمین بھی ہے اور یہ لاہور کے تاریخی اور گنجان آباد ترین راستوں سے گذرے گا۔
منصوبے کے روٹ پر موجود سینکڑوں گھروں اور دکانوں کو مسمار کیا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ شہری اس منصوبے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریلی میں شریک خاتون شائشتہ افضل کا گھر بھی اورنج لائن ٹرین کے روٹ پر ہے۔ ان کا کہنا تھا ’پنجاب حکومت ہزاروں لوگوں کے سر سے چھت چھین کر یہ منصوبہ بنا رہی ہے۔‘
سمن آباد میں ایک پلازے کے مالک عبدالرحمن کہتے ہیں ’حکومت ہمیں ہمارے آباؤ اجداد کی جگہ سے بے دخل کر رہی ہے۔‘
اورنج لائن ٹرین منصوبے پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اس کے باعث شہر کی 16 تاریخی عمارتیں خطرے میں ہیں۔
قانون کے مطابق اثاثہ قرار دی جانے والی عمارتوں کے ارد گرد 200 فٹ کی حدود میں تعمیراتی کام کی ممانعت ہے اور مخالفین کا دعویٰ ہے کہ اورنج لائن ٹرین منصوبے میں اس قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد کہتی ہیں ’کئی ماہ سے ہم اس معاملے کو پنجاب اسمبلی میں اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حکومت اس پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔ اپوزیشن کو اعتماد میں لیے بغیر یہ منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔ جب اسمبلی میں ہماری بات نہیں سنی گئی تو ہم مجبوراً سڑکوں پر آ گئے ہیں۔‘
ریلی میں مسیحی برادری کے نمائندے بھی شریک ہوئے جن کا کہنا تھا کہ اورنج لائن ٹرین منصوبے کے راستے میں موجود ان کے چار تاریخی گرجا گھروں کو خطرہ ہے۔
پاکستان مائینارٹی الائنس کے ملک ریاست علی کا کہنا تھا ’اس وقت ملک میں منی مارشل لا کی کفیت ہے۔ شریف برادران اس منصوبے کو کمیشن کھانے کے لیے بنا رہے ہیں۔ اس میں عوام کی رائے، فائدے اور نقصان کو مدنظر نہیں رکھا جا رہا ہے۔‘
بی بی سی کی با رہا کوششوں کے باوجود پنجاب حکومت کا کوئی ترجمان اس معاملے پر اپنا موقف دینے کے لیے دستیاب نہیں ہوسکا۔
ادھر وزیرِ اعلی پنجاب شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں اس منصوبے پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں اورنج لائن ٹرین منصوبے کے متاثرین کے لیے مختص کی گئی رقم کو تاریخی قرار دیا گیا۔ وزیرِ اعلی نے متاثرین کو معاوضے کی جلد ادائیگی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
پنجاب حکومت نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کے متاثرین کو مالی معاوضہ دینے کا سلسلہ یکم فروری سے شروع کیا ہے لیکن معاوضے کے کاونٹرز پر ابھی تک متاثرین نہ ہونے کےبرابر ہی دکھائی دے رہے ہیں۔
اورنج لائن ٹرین منصوبے سے متعلق رٹ کی سماعت چار فروری کو متوقع ہے۔
منصوبے کا مستقبل جو بھی ہوگا اس معاملے نے مختلف مفادات اور نکتہ نظر رکھنے والی تمام اپوزیشن جماعتوں کو مجبوراً ہی سہی مگر پنجاب حکومت کے خلاف متحد کردیا ہے۔
متحدہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم دیا گیا ہے کہ وہ اس منصوبے کے پرانے روٹ کو بحال کرے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اتنی شدید عوامی اور سیاسی مخالفت کے باوجود اورنج لائن منصوبہ جاری رہ سکے گا یا پھر تعطل کا شکار ہو جائے گا۔







