القاعدہ کے مبینہ فنانسر ضمانت پر رہا

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے القاعدہ کی مبینہ فنانسر شیبا احمد کو دو لاکھ روپے کی ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی کے جج بشیر کھوسو کی عدالت میں شیبا احمد کی ضمانت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ ان کے وکیل کا موقف تھا کہ ان کے موکل پر عائد الزامات قابل ضمانت ہیں جس پر عدالت نے ان کی درخواست منظور کر لی۔
پولیس نے چارج شیٹ میں شیبا احمد پر کالعدم تنظیم سے تعلقات رکھنے اور جہادی لٹریچر برآمد کرنے کا الزام عائد کیا تھا جن کی سزا چھ ماہ بنتی ہے۔
اس کے برعکس گرفتاری کے وقت ان پر اسماعیلی برادری کی بس میں ملوث ملزمان کی ذہنی تربیت کے علاوہ زخمی دہشت گروں کے علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔
محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کے ایس ایس پی نوید خواجہ نے شیبا احمد کی گرفتاری کے وقت ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ صفورا واقعے میں گرفتار ملزمان سعد عزیز اور اظہر عشرت کے انکشافات کی روشنی میں شیبا احمد کو شہر کے پوش علاقے ڈیفنس سے گرفتار کیا گیا۔
اسماعیلی برادری کی بس پر حملے کے نتیجے میں 45 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
پولیس نے واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں طاہر حسین منہاس عرف سائیں عرف نذیر عرف زاہد، سعد عزیز عرف ٹن ٹن عرف جون، محمد اظہر عشرت، عرف ماجد اور حافظ ناصر حسین عرف یاسر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور ان کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے ظاہر کیا تھا۔
ایس ایس پی انسدادِ دہشت گردی خواجہ نوید نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ گرفتار ملزم شیبا احمد بینکار اور تاجر ہیں اور اپنا تعلق تنظیم اسلامی سے ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم تنظیم اسلامی نے ان سے لاتعلقی ظاہر کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایس ایس پی نوید خواجہ کا کہنا تھا کہ ملزم کا ڈیفنس میں ایک لیکچر سینٹر قائم تھا جہاں وہ درس دیتے تھے، صفورا واقعے میں گرفتار سعد عزیز اور دیگر ملزمان اس میں شریک ہوتے رہے ہیں اور ملزم نے ان کی ذہنی تربیت کے علاوہ مکمل مالی معاونت کی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کراچی سے باہر بھی دہشت گردوں کی معاونت کرتا رہا ہے۔ سی ٹی ڈی نے ایک ہپستال میں چھاپہ مارا تھا جہاں سے گرفتار ملزم حسن ظہیر نے انکشاف کیا تھا کہ شیبا احمد نے لاہور میں زخمی دہشت گردوں کے علاج کے لیے ایک ہسپتال کی مالی معاونت کی تھی۔
ملزم شیبا نے عدالت میں خود پر عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ڈیفنس میں اپنی رہائش گاہ پر قرآن کا درس دیتے تھے اور انھیں علم نہیں اس میں کون شریک ہوتا رہا ہے۔
دوسری جانب کراچی وسطی پولیس نے جمعے کو رضویہ سوسائٹی سے چھ مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایس ایس پی مقدس حیدر کے مطابق ایک گھر پر چھاپہ مارکر سید عالم، سید احمد، سید امین، منظر، مظفر، ناصر عادل اور اسلام الدین کو گرفتار کر کے بارود سے بھری ہوئی موٹر سائیکل بھی برآمد کی گئی ہے۔







