کیا اقتصادی راہداری دوسرا کالا باغ ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ثنااللہ بلوچ
- عہدہ, بلوچستان سے سابق رکنِ سینیٹ
چین اور پاکستان کے درمیان کی ’پراسرار‘ اقتصادی راہداری پر خدشات اب کھل کر سامنے آنے لگے ہیں اور سیاسی جماعتیں بھی 46 ارب ڈالر کے اس معاہدے کی خفیہ نوعیت اور حکمت عملی کے اعتبار سے گوادر جیسی اہم بندرگاہ کو بلوچستان سے بغیر صلاح و مشورہ کے ہی چین کو حوالے کرنے سے پریشان ہیں۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے صوبے چین کے ساتھ اس اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کو اس طرح سے دیکھتے ہیں کہ جیسے صوبہ پنجاب نے ہی اس کے لیے بات چیت کی، اسی کا اس پر کنٹرول ہے اور مرکزی طور پر اسی کی ترقی کے لیے یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس میں تاریخی طور پر پسماندہ صوبوں کے لیے کچھ خاص نہیں ہے۔
سنہ 1980 اور 1990 کے عشرے میں کالا باغ ڈیم منصوبے کو بھی ایک قومی منصوبے کے طور پر پیش کیا گيا تھا لیکن اس سے باقی ملک کو ملنے والے کسی ایک ’قومی‘ فائدے کو بھی اجاگر نہیں کیا جا سکا تھا۔
اس ڈیم کی مخالفت صوبہ سندھ اور خیبر پختونخوا نے نوشہرہ میں سیلاب کے خطرے، بڑے پیمانے پر لوگوں کے بے گھر ہونے اور سندھ کے ریگستان میں تبدیل ہو جانے کے خدشے کے پیش نظر کیا تھا۔
حالانکہ بعد میں بلوچستان نے بھی اپنے تاریخی حلیف کی حمایت میں فوج اور سویلین اسٹیبلشمنٹ کی ان پالیسیوں کی مخالفت شروع کی جن سے پنجاب کو تو فائدہ پہنچتا ہے لیکن اس کی قیمت پسماندہ وفاقی اکائیوں اور ان کی مظلوم عوام کو ادا کرنی پڑتی ہے۔
پنجاب اور دیگر چھوٹی ریاستوں کے درمیان بداعتمادی اور جس طرح سے ان ریاستوں پر حکمرانی کی جاتی تھی اور جس طرح سے انھیں کنٹرول کیا جاتا تھا اس کی وجہ سے بھی کالا باغ ڈیم کی مخالفت ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بار صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا چین کے ساتھ اقتصادی راہداری اور اس کے نفاذ کے منصوبوں کی مخالفت میں آگے آگے ہیں جس میں دونوں صوبوں کو، وفاق کے زیر کنٹرول بلوچستان کی گوادر بندرگاہ اور اس کے زیر نگرانی سڑک کو چھوڑ کر پوری طرح سے بائی پاس کیا گيا ہے۔
اگرچہ بلوچستان کی ریاستی حکومت جو اسلام آباد کے سہارے چلتی ہے ، اپنےعوام کےطویل المعیاد مفادات کو دانستہ طور پر نظرانداز کر رہی ہے۔
معاشی راہداری کا منصوبہ بھی کالا باغ ڈیم کی صورت حال سے دوچار ہونے پر تشویش پائی جاتی ہیں اس میں شفافیت ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کس کا کتنا تعاون ہے اور اور کون مستفید ہو رہا ہے، روٹ کا تنازع، سکیورٹی انتظامات جس میں خصوصی دستوں کا قیام اور آمدن میں حصے داری جیسے مسائل شامل ہیں۔
اس کے لیےاب تک کوئی ایسا ’بلیو پرنٹ یا فریم ورک‘ تیار نہیں ہے جس میں ان تمام مسائل کا خیال رکھا گیا ہو۔ نہ ہی اس میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ سی پی ای سی ان پسماندہ صوبوں کی قسمت بدل کر رکھ دےگا، بلکہ یہ چین کو خوش کرنے اور پہلے سے ترقی یافتہ صوبے کے فائدے کے لیے چھوٹے صوبوں کے استحصال اور ان کو دبانے کا ایک اور ہتھیار ہے۔
شفّافیت

،تصویر کا ذریعہLindsay Brown LPI
حکومت ابھی تک اتنے بڑے منصوبے کی شفافیت کے مسئلے پر ناقدین کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ابھی تک کسی ریاستی حکومت کو اس منصوبے کا فریم ورک یا اس منصوبے پر بات چیت کے لیے تفصیلات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
سی پی ای سی کا معاہدہ اتنا خفیہ ہے کہ سٹیٹ بینک کے گورنر بشمول خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وزارئے اعلیٰ نے حال میں اس کی شفافیت کے حوالے سے سوال اٹھائے ہیں۔اگر یہ منصوبہ قومی مفاد میں ہے تو اب تک ریاستی حکومتوں کے پاس اس سے متعلق کوئی ایسی دستاویزات کیوں نہیں ہیں جس میں اس کے مختصر اور طویل المعیاد فوائد اور چینی حکومت اور چینی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والے انتظامات کا ذکر ہو؟
مزید یہ کہ بلوچستان کی پارٹیاں اس کی حکمت عملی، اقتصادی اور سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ ماضی میں اس طرح کے ترقیاتی منصوبے، جیسے سوئی گیس، سیندک، اوڑمارا نیول بیس، حب انڈسٹریل پروجیکٹ اور اور دیگر سٹرٹیجک پروجیکٹس سے بلوچوں کی ترقی کے بجائے وہ قومی دھارے سے اور دور ہوتے گئے ہیں۔
قومی حصہ داری

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر بلوچستان حکمت عملی کے اعبتار سے اہم نہ ہوتا اور گوادر پورٹ کے بغیر سی پی ای سی جیسے بڑے منصوبے کی کامیابی ایک خواب ہی رہتی۔
افغانستان کی جنگ میں جغرافیائی اور سیاسی پوزیشن کی وجہ سے کے پی کے اور بلوچستان کا تعاون بہت زیادہ رہا ہے حالانکہ، پہلے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے اربوں ڈالر سے ہر لحاظ سے فائدہ صوبہ پنجاب کو پہنچا۔ جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حصے میں تباہی آئی اور افغانستان میں جنگ کی وجہ سے ان علاقوں میں جنگ کے اثرات پڑے اور جہاں سے بڑے پیمانے پر لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے اور طالبان کی تعداد بڑھتی گئی۔
اس منصوبے میں بلوچستان زمین، بندرگارہ اور ديگر اشیا کی مدد سے چین کو دنیا کو دوسرے خطوں سے جوڑ کر اور پنجاب کے دروازے کھول کر سب سے زیادہ تعاون دے رہا ہے۔
مختصر یہ کہ اس اقتصادی راہداری کے لیے بلوچستان کا تعاون بہت زیادہ ہے لیکن اس مقابلے میں اسے فائدہ بہت کم ہوگا۔
قومی مفاد

،تصویر کا ذریعہbbc
پلاننگ کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق سی پی ای سی سے پنجاب کو سٹریٹیجک اور اقتصادی سطح پر سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا جس سے پنجاب کی اقتصادی حالت کا نقشہ بدل جائے گا۔
صوبے میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، صنعتی ترقی ہوگی جس سے بلوچستان کے مقابلے میں اس کی آمدن میں زبردست اضافہ ہوگا۔ جبکہ بلوچستان میں 92 کروڑ ڈالر گوادر بندرگار بہتر بنانے اور انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی تعمیر پر خرچ کیے جائیں گے۔
یہ دونوں منصوبے وفاق کے ماتحت ہوں گے جس سے بلوچستان کا سماجی اور اقتصادی سطح پر کوئی خاص بھلا ہونے والا نہیں ہے۔
ابتدائی سطح پر جو بھی منصوبے ہیں وہ پنجاب اور سندھ میں بنائے جائیں گے۔ 6۔28 ارب ڈالر میں سے پنجاب کو 13 ارب ڈالر ملیں گے جبکہ سندھ کو چار ارب 60 کروڑ اور خیبر پختونخوا کو ایک ارب 80 کروڑ ڈالر، اسلام آباد کو ڈیڑھ ارب ڈالر، گلگت بلتستان کو 92 کروڑ اور بلوچستان کے حصے میں بھی 92 کروڑ ڈالر آئیں گے۔
اسلام آباد میں صرف ایک 720 میگاواٹ کا پاور پلانٹ گوادر پورٹ کے مقابلے میں پنجاب اور اسلام آباد کے لیے ہزار گنا زیادہ فائدے مند ہے کیونکہ گودار بندرگاہ کی انکلیو تو بعض خاص اصول و ضوابط کے تحت چینیوں کے لیے مخصوص ہوں گے اور بلوچ عوام چینی اور پاکستانی تاجر اشرافیہ سے تو علحیدہ ہی رکھی جائے گی۔
اس منصوبے کے تحت ابتدا میں بجلی پیدا کرنے یا چھوٹی صنعتوں کے قیام کے لیے بلوچستان میں کوئی بھی منصوبہ نہیں ہے جبکہ یہ اقتصادی راہداری 50 فیصد بلوچستان سے گزرے گی۔
روٹ کا تنازع

نواز حکومت نے چھوٹے صوبوں کو بیوقوف بنانے کے لیے سی پی ای سی پر منطقی بحث کو نظر انداز کرنے کے لیے ایک چھوٹا ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک کا افتتاح کیا جس نے بلوچستان کے ژوب میں نیشنل ہائی کے بہتری کے لیے سرمایہ مہیا کیا۔
حکومت کے تمام وعدوں کے باوجود 2015 اور 2014 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام سے واضح ہے کہ مشرقی روٹ، جو مرکزی پنجاب سے گزرتا ہے، حکومت کی ترجیح ہے۔ ابتدا میں 28 ارب ڈالر اسی مشرقی روٹ پر خرچ ہوں گے جس سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کا اہم راستہ یہی روٹ ہوگا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اس حوالے سے توانائی کے تمام بڑے منصوبے اور ڈھانچے پنجاب اور سندھ میں ہوں گے جن سے مزید صنعتی اور اقتصادی ترقی ہو گی۔ تو اس راہداری کے روٹ میں تبدیلی سے، جس کی حفاظت پر پنجاب ڈویژنز کے خصوصی دستے تعینات ہوں گے، فائدہ کے پی کے یا بلوچستان کو نہیں ہوگا بلکہ زیادہ فائدہ پنجاب کو ہوگا۔

اس اقتصادی راہداری پر جو بھی کچھ ہوگا اور اس کے عوض میں جو دولت یا آمدن پیدا ہوگی اس سے بھی بلوچستان کو کچھ نہیں ملنے والا۔
آمدن میں شراکت سے متعلق موجودہ قوانین کے مطابق، روڈ ٹول، پائپ لائن سے حاصل ہونے والی آمدن، سمندری بندرگاہوں، ایئر پورٹ ٹیکسوں اور دیگر ٹیکس کی آمدن اور کمائی اس خاص فنڈ کا حصہ ہوں گے جو آبادی کی مناسبت سے تقسیم کی جائے گی۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی قیادت کو اس حوالے سے وعدوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان ایک وفاق ہے اور صوبوں کو چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے فریم ورک تک ایسی واضح اور شفاف رسائی حاصل ہونی چاہیے جو عوام کے مفاد ہو۔







