’تلور کے شکار پر پابندی سے خلیجی ممالک سے تعلقات متاثر ہو رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی وفاقی حکومت نے تلور کے شکار پر پابندی سے متعلق عدالت کے فیصلے کے خلاف نطر ثانی کی اپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔
وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں تلور کا شکار ہوتا ہے وہاں خلیجی ممالک کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد ترقیاتی کام بھی کرواتے ہیں اور اس سے وہاں کے لوگوں کو روزگار مل رہا ہے۔
چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے وفاق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی پاکستان میں آ کر تلور کا شکار کرتے ہیں اور کیا اس کے لیے انھیں صرف پاکستان ہی میسر ہے؟
عدالت کا کہنا تھا کہ کیا یہ غیر ملکی اپنے ممالک میں شکار نہیں کرسکتے؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کا کہنا تھا کہ تلور کے شکار سے ملک میں سیاحت کو بھی فروغ ملتا ہے۔
عامر رحمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے تلور کے شکار پر پابندی لگاتے وقت بلوچستان وائلڈ لائف ایکٹ کو منسوخ نہیں کیا جبکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ان علاقوں میں شکار پر پابندی نہیں ہونی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بینچ میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا ان کی نطر میں عدالتی فیصلے میں سقم موجود ہیں اور اگر ایسا ہے تو اس بارے میں شواہد عدالت میں پیش کیے جائیں جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ تلور کے شکار پر مکمل پابندی عائد نہ کی جائے۔
سماعت کے دوران عدالت میں تلور اور دیگر پرندوں کی ایک تصویری کتاب بھی پیش کی گئی جس پر بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ اس کتاب سے کیسے معلوم ہوگا کہ ملک میں تلور کی نسل بڑھ رہی ہے؟
عدالت نے عامر رحمان سے پوچھا کہ کیا اس پرندے کی افزائش نسل کے بارے میں کوئی سروے کیا گیا ہے جس کا عدالت میں جواب نہیں دیا گیا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ایسا مواد عدالت میں پیش کیا جائے جو وفاق کی نظرثانی کی درخواست کو سپورٹ کرتا ہو۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تلور کے شکار کے بارے میں بہت سی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جس پر عدالت نے تمام درخواستوں کو یکجا کرتے ہوئے ان درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔







