’جنسی زیادتی کا جرم گذشتہ دس سال سے ہو رہا تھا‘

پولیس نے اس واقعے میں 13 افراد کو گرفتار کیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپولیس نے اس واقعے میں 13 افراد کو گرفتار کیا ہے

پنجاب کے شہر قصور میں بچوں کی فحش فلمیں تیار کرنے کےسکینڈل کو بے نقاب کرنے والے صحافی اشرف جاوید اس بارے میں زیادہ پرامید نہیں ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کے اس گھناؤنے سکینڈل میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا مل سکے یا انھیں عبرت کی مثال بنایا جا سکے۔

بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے جاوید اشرف نے پولیس، مقامی انتظامیہ، علاقے کے منتخب اراکین اور صوبائی حکومت کی طرف سے سامنے آنے والے ردعمل پر مایوسی کا اظہار کیا۔

اشرف جاوید نے کہا کہ ’بدقسمتی سے میں اس بارے میں زیادہ پر امید نہیں ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ڈی پی او خود اعتراف کر چکے ہیں کہ کافی سے زیادہ ثبوت موجود ہیں لیکن صوبائی وزیر قانون اسے زمین کے تنازع سے جوڑ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بچوں کی فحش فلمیں تیار کرنا ایک جرم ہے خواہ اس کا تعلق کسی اور جھگڑے یا تنازع سے ہو یا نہ ہو۔

اشرف جاوید جنھیں اس سیکنڈل کو منظر عام پر لانے کے بعد سے اس کو دبانے کے لیے کچھ پیغامات موصول ہوئے ہیں، یقنی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس میں کچھ بڑے اور بااثر ہاتھ بھی ملوث ہیں یا نہیں۔

تاہم انھوں نے پورے یقین سے یہ بات کہی کہ’ملزمان کی طرف سے پولیس کو رقوم موصول ہوتی تھیں اور مقامی منتخب نمائندے اس کو رفع دفع کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

سکینڈل کی پوری تفصیلات بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ جرم گذشتہ دس سال سے ہو رہا تھا۔‘

ان کے مطابق بچوں کی فلمیں تیار کر کے ایک طرف تو متعلقہ خاندانوں کو بلیک میل کر کے رقوم بٹوری جاتی تھیں دوسری طرف انھیں پیسہ کمانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

پاکستان میں اس واقعے کے خلاف سول سوسائٹی نے احتجاج بھی کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں اس واقعے کے خلاف سول سوسائٹی نے احتجاج بھی کیا ہے

اشرف جاوید کے مطابق انھیں اس واقعے کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب چار ہزار کے قریب افراد احتجاج کرتے ہوئے لاہور جانا چاہتے تھے لیکن پولیس انھیں روک رہی تھی اور اس پر معلوم کیا کہ پولیس انھیں کیوں روک رہی ہے۔

پولیس نے نہ صرف مظاہرین کو روکا بلکہ ان پر تشدد کیا اور مظاہرین کے جوابی پتھراؤ میں پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

اشرف جاوید کے مطابق: ’اس واقعے کے بارے میں نہ صرف پولیس حکام کو بلکہ مقامی سیاسی رہنماؤں کو بھی علم تھا اور وہ اس کو دیگر عام واقعات کی طرح سیاسی طور پر حل کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن بدقسمتی سے انھیں اندازہ نہیں ہو سکا کہ یہ بچوں سے مبینہ جنسی زیادتی کے واقعات ہیں اور ان کی ویڈیوز موجود ہیں، انھیں اس کی نزاکت کا اندازہ ہی نہ ہو سکا۔‘