سیلاب کے باعث چترال سے زمینی رابطہ تاحال منقطع

انتظامیہ کی جانب سے سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے لئے تاحال امدادی کاموں کاآغاز نہیں کیا جاسکا ہے جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔(فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنانتظامیہ کی جانب سے سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے لئے تاحال امدادی کاموں کاآغاز نہیں کیا جاسکا ہے جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔(فائل فوٹو)
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع چترال میں پانچ دن پہلے ہونے والی طوفانی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے کئی علاقوں کا ملک کے دیگر شہروں سے زمینی رابطہ بدستور منقطع ہے جس سے کئی مقامات پر خوراک کی قلت پیدا ہورہی ہے۔

چترال سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کو ہونے والی مون سون بارشوں کی وجہ سے ضلعے کی بیشتر وادیوں میں سیلابی ریلے آئے تھے جس کی وجہ سے گرم چشمہ، وادی کیلاش، بمبورت، رمبور، کریم آباد، حسن آباد اور تحصیل مستنوج کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سڑکیں، رابط پل، مکانات اور دکانیں پانی میں بہہ گئے تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ چترال سے پشاور کی مرکزی شاہراہ پر واقع پل بھی سیلابی پانی کے نذر ہوگیا تھا تاہم مقامی انتظامیہ کی کوششوں سے مرکزی شاہراہ پر اب ٹریفک بحال کردی گئی ہے۔

چترال کے مقامی صحافی گل حماد فاروقی نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی وادیوں سے زمینی راستے گزشتہ پانچ دنوں سے بدستور منقطع ہیں جس سے بیشتر علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت پیدا ہورہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آج پہلی دفعہ فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء پہنچائی گئی ہیں، تاہم اب بھی ایسے علاقے موجود ہیں جہاں امداد نہیں پہنچی۔

ان کے مطابق مقامی انتظامیہ کی جانب سے سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے لیے تاحال امدادی کاموں کاآغاز نہیں کیا جاسکا ہے جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ سیلابی ریلوں کی وجہ سے اب تک 40 سے زائد مکانات، 100 کے قریب دوکانیں، مساجد اور دیگر عبادت خانے تباہ ہوچکے ہیں جبکہ تین افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چترال اور آس پاس کے علاقوں میں گزشتہ پانچ دنوں سے بجلی کی ترسیل معطل ہے جبکہ پینے کے پانی کی قلت بھی پیدا ہوگئی ہے۔

گل حماد فاروقی نے بتایا کہ چترال زیادہ تر پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے سیلاب سے متاثرہ سڑکوں اور بلوں کی بحالی پر کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ کا موقف معلوم کرنے کےلیے ڈپٹی کمثنر سے کئی بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے چترال میں مون سون بارشوں سے متاثر ہونے والی سڑکوں اور پلوں کی فوری بحالی کی ہدایت کی ہے اور امدادی کاموں کےلیے دس لاکھ روپے کا فنڈ جاری کردیا ہے۔