دیر میں شدید بارش، سیلابی ریلے سے آٹھ افراد ہلاک

خیال رہے کہ دیر اپر پہاڑی سلسلوں پر مشتعمل ضلع ہے اور مون سون کی بارشوں سے ان علاقوں میں سیلابی ریلے آتے رہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنخیال رہے کہ دیر اپر پہاڑی سلسلوں پر مشتعمل ضلع ہے اور مون سون کی بارشوں سے ان علاقوں میں سیلابی ریلے آتے رہتے ہیں
    • مصنف, سید انور شاہ
    • عہدہ, سوات

خیبر پختونخواہ کے ضلع دیر اپر میں حکام کے مطابق جمعرات کو ہونے والی شدید بارش اور ژالہ باری کے باعث آنے والے سیلابی ریلے میں متعدد افراد بہہ گئے ہیں جن میں سے اب تک آٹھ افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد میں پانچ خواتین، دو بچے اور ایک مرد شامل ہیں۔ دیر اپر کے پولیس کنٹرول روم کے اہلکار امجد نے بی بی سی کو بتایا کہ شدید بارش کے نتیجے میں تھل کے علاقے میں آنے والا سیلابی ریلہ سات گھر، ایک مدرسہ اور عید گاہ کو بھی بہا لےگیا ہے۔

تھانہ تھل کے محرر ریاض نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ بیہاڑ بازار مکمل طور پر سیلابی ریلے میں بہہ گیا ہے جہاں مختلف اشیا کی تقریباً بیس سے زیادہ دکانیں موجود تھیں۔ ان کے مطابق متعدد مکانات بھی سیلابی ریلے کی نذر ہوگئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ نے مساجد اور پولیس موبائل کے ذریعے علاقے میں اعلانات کیے ہیں جس میں دریائے پنجکوڑہ کے کنارے آباد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات کی گئی ہے جبکہ لوگوں کو دریا کے قریب جانے سے بھی منع کردیا ہے۔

خیال رہے کہ دیر اپر پہاڑی سلسلوں پر مشتعمل ضلع ہے اور مون سون کی بارشوں سے ان علاقوں میں سیلابی ریلے آتے رہتے ہیں۔