’جو کام حکومت کبھی نہ کر سکتی، تنظیمیں کر رہی ہیں‘

وکیو خاصخیلی کا کہنا ہے کہ انھیں ایک کلومیٹر دور سے میٹھا پانی لانا پڑتا تھا
،تصویر کا کیپشنوکیو خاصخیلی کا کہنا ہے کہ انھیں ایک کلومیٹر دور سے میٹھا پانی لانا پڑتا تھا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ہینڈ پمپ کے چاروں اطراف برتن، کولر اور مٹکے موجود ہیں جبکہ بچے اور خواتین اپنی باری کے منتظر ہیں۔

ایک سال پہلے تک وکیو خاصخیلی گاؤں کے رہائشیوں کو نہر کا پانی استعمال کرنا پڑتا تھا، جس کے باعث بچے اور بڑے دونوں ہی پیٹ کی بیماریوں کا شکار رہتے تھے۔

سندھ کی ساحلی تحصیل شاہبندر کے گاؤں وکیو خاصخیلی کے ایک رہائشی کا نام بھی وکیو خاصخیلی ہے اور انھیں ایک کلومیٹر دور سے میٹھا پانی لانا پڑتا تھا، حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے انھیں پانی کی سکیم نہیں مل سکی تھی۔ اب ان ہینڈ پمپموں کی وجہ سے گھر تک میٹھا پانی دستیاب ہے۔

ایس پی او نامی این جی او کی معاونت سے وکیو خاصخیلی سمیت شاہبندر تحصیل میں پانچ سو سے زائد ایسے ہینڈ پمپ نصب کیے گئے ہیں جن میں15 فیصد رقم گاؤں کے لوگوں نے ادا کی ہے۔

شاہبندر تحصیل کے رندگاؤں میں نہر پر پل اور اینٹوں سے سڑک تعمیر کی گئی ہے لیکن یہ منصوبہ بھی سرکاری اداروں کے بجائے غیر سرکاری اداروں کی مالی معاونت سے مکمل ہوا۔

رند گاؤں میں یہ پل اور سڑک سےگاؤں تک کا پکا راستہ بھی ایس پی او نامی غیر سرکاری ادارے کی مالی معاونت سے بنایا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنرند گاؤں میں یہ پل اور سڑک سےگاؤں تک کا پکا راستہ بھی ایس پی او نامی غیر سرکاری ادارے کی مالی معاونت سے بنایا گیا ہے

اس 12 فٹ طویل اور آٹھ فٹ چوڑی پل پرگدھا گاڑی اور ٹریکٹر ٹرالی آسانی سے آ سکتے ہیں۔

گاؤں کے استاد خادم حسین کے مطابق دو سال قبل پل نہ ہونے کی وجہ سے بارش کے دنوں میں ان کا رابطہ مرکزی سڑک سے کٹ جاتا تھا، جس کی وجہ سے مریضوں کو ہپستال تک پہنچانا اور روز مرہ اشیاء لانا ایک دشوار مرحلہ ہوتا تھا۔

’نہر پر لکڑی رکھی تھی جہاں سے بڑے تو نہر کراس کر لیتے تھے لیکن بچے ڈرتے تھے کیونکہ جب نہر میں زیادہ پانی ہوتا تھا تو یہ ڈر ہوتا کہ کہیں بچے اس میں نہ گر جائیں جبکہ اس نہر کو عبور کرنے کے لیے قریبی پل بھی تین کلومیٹر دور ہے۔‘

رند گاؤں میں یہ پل اور سڑک سےگاؤں تک کا پکا راستہ بھی ایس پی او نامی غیر سرکاری ادارے کی مالی معاونت سے بنایا گیا ہے۔

تنظیم کے افسر الٰہی بخش بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ جو بھی منصوبے ہیں وہ ان کی مرضی کہ نہیں ہوتے بلکہ ان میں مقامی لوگوں کی رائے اور مرضی شامل ہوتی ہے ان کام صرف یہ دیکھنا ہےکہ فنڈنگ کا استعمال درست ہو رہا ہے یا نہیں۔

ایک سال پہلے تک وکیو خاصخیلی گاؤں کے رہائشیوں کو نہر کا پانی استعمال کرنا پڑتا تھا
،تصویر کا کیپشنایک سال پہلے تک وکیو خاصخیلی گاؤں کے رہائشیوں کو نہر کا پانی استعمال کرنا پڑتا تھا

’ہمارے پاس سال کی رپورٹ دینے کا تصور اور داخلی مانیٹرنگ محکمہ موجود ہے ہماری تنظیم نے ڈونرز کے ساتھ جو معاہدے کیے ہیں ان میں واضح ہے کہ کیا اور کیسے کیا جائےگا۔ تمام چیزیں دستاویزات میں موجود ہیں کوئی بھی چیز خفیہ نہیں۔‘

سندھ میں سنہ 2010 اور 2011 کے سیلاب نے جب کئی بستیاں مٹی کا ڈھیر بنا دی تھیں تو غیر سرکاری اداروں نے انھیں دوبارہ آباد کیا، صرف ٹھٹہ، سجال اور بدین اضلاع میں ہی ایسے ہزاروں مکانات تعمیر کیےگئے۔

وزیر اعظم کی سابق معاون اور سماجی شعبے سے منسلک شہناز وزیر علی کا کہنا ہے کہ’ کئی تنظیمیں پاکستان کے شہریوں نے خود بنائی ہیں جو تعلیم، صحت اور غربت کے خاتمے سمیت کئی شعبوں میں کام کر رہی ہیں اگر یہ کام نہ کرتی تو حکومت تو یہ کام کبھی نہ کر سکتی۔‘

حالیہ دنوں غیر سرکاری اور ریاستی اداروں میں اس وقت تعلقات ناخوشگوار ہوئے، جب القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی امریکی حملے میں ہلاکت نے سیو دی چلڈرن نامی تنظیم کے ذریعے کمپاؤنڈ تک رسائی کی اطلاعات نے ریاستی اداروں کی نظروں میں بین الاقوامی این جی اوز کو مشکوک بنا دیا۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار بعض غیر سرکاری اداروں پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہیں کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

شہناز وزیر علی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی بین الاقوامی این جی او حکومتِ پاکستان کی مرضی اور پروٹوکول پر دستخط کیے بغیر کام نہیں کرسکتی اب یہ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے واضح کردہ طریقہ کار پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

’اکنامک ڈویژن میں جو سیل ہے وہ سب سے کمزور محکمہ ہے جس کے پاس نہ تو وسائل ہیں اور نہ ہی عملہ دستیاب ہے اسی وجہ سے وہ آڈٹ رپورٹس کی مانیٹرنگ کر سکتے ہیں اور نہ ہی انھیں یہ رپورٹس فراہم کی جاتی ہیں۔‘

اس 12 فٹ طویل اور آٹھ فٹ چوڑی پل پرگدھا گاڑی اور ٹریکٹر ٹرالی آسانی سے آسکتے ہیں
،تصویر کا کیپشناس 12 فٹ طویل اور آٹھ فٹ چوڑی پل پرگدھا گاڑی اور ٹریکٹر ٹرالی آسانی سے آسکتے ہیں

غیر سرکاری ادارے جن شعبوں میں کام کرتے ہیں سرکاری طور پر وہ شعبے صوبائی حکومت کے ماتحت ہیں لیکن ڈونر تنظیمیوں کی رجسٹریشن اور نگرانی وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ سوشل ویلفیئر سندھ علیم لاشاری کا کہنا ہے کہ اداروں میں تعاون نہ ہونے کی وجہ سے نگرانی نہیں ہوتی۔ وفاق سے جو این جی اوز آتی ہیں ان کا صوبائی حکومت کے ساتھ کوئی رابطہ یا تعاون نہیں ہوتا اب جب رابطہ ہی نہیں ہوگا تو ان کو مانیٹر کیسے کیا جا سکتا ہے۔

’وہ خود ہی مانیٹرنگ کریں خود ہی پراجیکٹ مکمل کریں صوبائی حکومت کو تو معلوم تک نہیں ہوتا کہ انھوں نے کب اور کیا پراجیکٹ شروع کیا۔اس وقت جو صورتحال خراب ہوئی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صوبائی حکومتوں کو اس میں شامل نہیں رکھا جاتا۔‘

وفاقی حکومت این جی اوز کی نگرانی کے قانون میں ترامیم چاہتی ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد کیا یہ اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے یا کئی دیگر اختیارات کی طرح صوبوں کے حوالے ہو چکا ہے۔