’غیر ملکی تنظیمیں قواعد وضوابط کی پاسداری نہیں کرتیں‘

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کو ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس ضمن میں کوئی بھی غیر ملکی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔
جمعرات کو ایوان بالا یعنی سینیٹ کے اجلاس میں جمعت علمائے اسلام کے سینیٹر حافظ حمد اللہ کی جانب سے غیر سرکاری تنظیم سیو دی چلڈرن کے دفاتر دوبارہ کھولنے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ 15 سال سے پاکستان میں بین الاقوامی اور غیر ملکی تنظیمیں کام کرتی رہی ہیں جنہوں نے کبھی بھی قواعد وضوابط کی پاسداری نہیں کی۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ان غیر سرکاری تنظیموں کو ایک نظام کے تحت کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں جس پر کام تیزی سے جاری ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سیو دی چلڈرن میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کیے اور اُنھیں پاکستان بدر کر دیا اور اب اس تنظیم سے وابستہ کوئی بھی غیر ملکی پاکستان میں کام نہیں کر رہا۔
چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں مذکورہ تنظیم کے دفاتر وزارت داخلہ کے حکم پر نہیں بلکہ اقتصادی امور کی ڈویژن کی سفارشات کی روشنی میں سیل کیے گئے اور یہ دفاتر تین ہفتوں تک سیل رہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اقتصادی امور ڈویژن کی طرف سے بھیجی جانے والی سمری میں اس بات کا کہیں بھی ذکر نہیں تھا کہ اسلام آباد میں اس تنظیم کے دفاتر ڈاکٹر شکیل آفریدی کے غیر ملکی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے بند کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی سیو دی چلڈرن میں کام کرتے تھے اور تجزیہ کاروں کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں اُنھیں اس گھر تک بھی رسائی مل گئی تھی جہاں پر القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن رہائش پذیر تھے جنہیں امریکی کمانڈوز نے حملہ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ایسی تنظیم کو ملک میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جو پاکستانی اقدار اور سلامتی کے معاملات کے خلاف کام کرے گی اور اس ضمن میں کوئی غیر ملکی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنھوں نے کہا کہ ماضی میں این جی اوز کے بھیس میں ایک ہزار کے قریب ایسے افراد کو ویزے جاری کیے گئے جو ملکی مفاد کے خلاف کر رہے تھے۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن کی لیے ایک شفاف نظام لایا جا رہا ہے اور اس ضمن میں ایک مانٹیرنگ کمیٹی بنائی جا رہی ہے جو ان تنظیموں کے بارے میں شکایات کا جائزہ لے کر ان کا ازالہ کرے گی۔







