پاک افغان سرحدی علاقوں میں موثر پولیو مہم کا فیصلہ

ایک اندازے کے مطابق پاک افغان سرحد پر سات ہزار سے زائد بچے ہر ماہ آتے جاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنایک اندازے کے مطابق پاک افغان سرحد پر سات ہزار سے زائد بچے ہر ماہ آتے جاتے ہیں
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں کے علاوہ اس کے افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں میں انسداد پولیو مہم کو مزید موثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

کوئٹہ میں جاری ہونے والے ایک اعلامیہ کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان اور افغانستان کے حکام کے درمیان ایک ملاقات میں کیا گیا۔

اس ملاقات میں بلوچستان سے وفد کی قیادت پولیو سے متعلق ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینٹیر ڈاکٹر سید سیف الرحمنٰ جبکہ افغانستان کے وفد کی قیادت سرحدی علاقے سپین بولدک کے ڈاکٹر رشید نے کی۔

ملاقات میں پاکستانی و افغان حکام سمیت عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے حکام بھی موجود تھے۔

ملاقات میں اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ پاکستان اور افغانستان آنے جانے والے بچوں کو انسدادِ پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

اس کے علاوہ ان تمام دیہات اور گھروں میں بھی انسداد پولیو مہم کے بروقت اور معیاری انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا جو افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر واقع ہیں۔

ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینٹیر ڈاکٹر سید سیف الرحمنٰ نے کہا کہ بلوچستان کے افغانستان سے منسلک سرحدی علاقوں میں ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلانے ہوں گے کیونکہ اس وقت صوبہ نازک صورت حال سے دوچار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاک افغان سرحد پر سات ہزار سے زائد بچے ہر ماہ آتے جاتے ہیں جس میں کئی بچے پولیو کے قطرے پلانے سے رہ جاتے ہیں۔

افغان ڈاکٹر نے پولیو ویکسین کی قلت دورکرنے میں مدد فراہم کرنے کی بھر پور یقین دہانی کرائی۔ ٹرانزٹ پوائنٹس پر بھی پولیو کے قطرے پلانے کا سلسلہ مزید بہتر بنایا جائے گا۔