رینجر کی کارروائیاں، پی پی پی اور ایم کیو ایم میں قربت

پی پی پی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی فون پر بات ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپی پی پی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی فون پر بات ہوئی ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر اپنی سابق حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ کو سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم سے ایک دوست کی معرفت مذاکرات جاری ہیں لیکن اس بارے میں فی الحال مزید کچھ بتایا نہیں جا سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں افطار ڈنر کے موقع پر سابق صدر آصف علی زرداری نے ڈاکٹر فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی پر مشتمل ایم کیو ایم کے وفد کو حکومت میں شمولیت کی پیشکش کی تھی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین اور سابق صدر آصف علی زرداری کا اس افطار ڈنر سے قبل ٹیلیفون پر بھی رابطہ ہوا تھا جس میں دونوں رہنماؤں نے ملک کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی اور آپس کے تمام تر اختلافات دور کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ان کا جینا مرنا سندھ دھرتی کے ساتھ ہے اور ملک کو اس وقت اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے لہٰذا انھیں اخوت، محبت اور بھائی چارے کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

اس سے قبل رواں سال اپریل میں متحدہ قومی موومنٹ نے لندن میں سابق وفاقی وزیر رحمان ملک اور الطاف حسین کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سندھ حکومت میں شمولیت کی تصدیق کی تھی۔

ایم کیو ایم کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ دونوں جماعتوں کے مابین تحریری معاہدہ ہوگا۔ جس پر عمل درآمد اور دو طرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں دونوں جانب سے دو دو ارکان شامل ہوں گے۔

ایم کیو ایم کے دفتر پر چھاپے کے بعد اس نے پی پی پی سے فاصلہ اختیار کر لیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایم کیو ایم کے دفتر پر چھاپے کے بعد اس نے پی پی پی سے فاصلہ اختیار کر لیا تھا

اسی مفاہمت کے تحت دونوں جماعتوں نے سینیٹ کے انتخابات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور سینیٹ چیئرمین کے لیے پیپلز پارٹی کے امیدوار رضا ربانی کی حمایت کی گئی تھی۔

نائن زیرو پر چھاپے کے بعد رینجرز کی مزید کارروائیوں کے باعث حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم سے فاصلہ رکھ لیا تھا اور ردعمل میں ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کا بھرپور کردار ادا کیا۔

بظاہر لگتا ہے کہ کراچی میں جاری رینجرز کے ٹارگٹڈ آپریشن نے دونوں جماعتوں کو قریب کردیا ہے۔ اس سے قبل ایم کیو ایم کارکنوں کی گمشدگی اور ہلاکتوں کی شکایت کرتی رہی ہے لیکن رینجرز کے سرکاری دفاتر پر چھاپوں اور غیر قانونی بجٹ سامنے آنے کے بعد پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے۔

ادھر لاڑکانہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی 62 ویں سالگرہ کے موقعے پر پیپلز پارٹی کی قیادت کا اجلاس جاری ہے۔ جس میں سابق صدر آصف زرداری کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور سندھ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

کراچی میں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سینیئر رہنما تاج حیدر کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کی تقریر کے بعد پوری قوم کو اب یہ پتہ چل گیا ہے کہ کون فوج کی گود میں بیٹھا ہے اور کون جمہوری اداروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اسٹیبلشمنٹ کا اتحادیوں کے ساتھ سامنا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس بات کا اندازہ سینیٹر تاج حیدر کے اس بیان سے ہوتا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’بے نظیر بھٹو نے ملک میں جمہوریت کی خاطر اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود ایم آر ڈی کی بنیاد رکھی اور ایم آر ڈی کے تحت ملک کی تمام سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے جمہوریت کے لیے تحریک چلائی۔ آج ملک میں جمہوریت کو بچانے کے لیے پھر ایم آر ڈی جیسے اتحاد کی ضرورت ہے۔‘