متحدہ کے خلاف الزامات، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی سفارش‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ پولیس نے محکمہ داخلہ کو ایس ایس پی راؤ انوار کے متحدہ قومی موومنٹ پر عائد کردہ سنگین الزامات کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انٹروگیشن (مشترکہ تحقیقاتی) ٹیم تشکیل دینے کی سفارش کی ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابقطاہر لمبا اور جنید خان سے تفتیش کے لیے ڈی آئی جی سلطان خواجہ اور ڈی آئی جی منیر شیخ کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دینے کی گذارش کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں پولیس کے علاوہ انٹلی جنس بیورو، آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس اور رینجرز کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں۔
ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو جمعہ کی شب ایک متنازعہ پریس کانفرنس کے بعد ملیر سے ہٹا دیا گیا تھا، سندھ پولیس کے ترجمان کے اعلامیے کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے آئی جی سندھ کو اس معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق راؤ انوار نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جس وجہ سے ان کا ملیر سے تبادلہ کیا گیا اور انہیں پولیس کے مرکزی دفتر میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ احسن آباد سے دو ملزمان طاہر لمبا اور جنید کو گرفتار کیا ہے، جن کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے اور دونوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’را‘ نے عسکری تربیت فراہم کی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزمان نے پچاس سے زائد ایسے لڑکوں کے بارے میں بتایا ہے جو بھارت سے تربیت یافتہ ہیں، یہ لڑکے ہر سیکٹر سے تعلق رکھتے ہیں اور گروہ کی صورت میں بھارت جاتے ہیں۔
راؤ انوار کا کہنا تھا کہ یہ لڑکے کراچی سے بینکاک یا سنگاپور جاتے ہیں، جہاں لندن سیکریٹریٹ سے ذوالفقار حیدر، ندیم نصرت اور محمد انور سے رابطہ کرتے ہیں، جو انہیں وقاص نامی شخص کا فون نمبر دیتا ہے اور وقاص ان کے پیسے سمیت دیگر انتظامات کردیتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’جب یہ لڑکے بھارت میں دلی ایئرپورٹ پر اترتے ہیں تو مفرور ملزم جاوید لنگڑا اور ’را‘ کے حکام ان کا استقبال کرتے ہیں اور انہیں فارم ہاؤس لے کر جاتے ہیں جہاں انہیں تربیت فراہم کی جاتی۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد لاہور بارڈر سے غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں داخل کرایا جاتا ہے۔‘
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی نے ایس ایس پی راؤ انوار کی پریس کانفرنس کو سیاسی ڈرامہ قرار دیا اور کہا کہ ان کے پیچھے سیاسی مقاصد کار فرما ہے۔
رابطہ کمیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ راؤ انور نے جھوٹ بولا ہے طاہر کو رواں سال 26 فروری جبکہ جنید کو 26 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا اور دونوں کی گرفتاری اور گمشدگی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواستیں بھی دائر ہیں۔
حیدر عباس نے واضح کیا کہ حالات کچھ بھی ہوں وہ الطاف حسین پر اعتماد کرتے ہیں، ان کا مرنا جینا ایم کیو ایم کے لیے ہے، کل بھی پاکستانی ہونے پر فخر تھا آج بھی ہے ان الزامات سے حوصلے پست نہیں ہوگا۔







