’را سے تربیت کے الزامات سیاسی ڈرامہ ہیں‘

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی نے ایس ایس پیراؤ انوار کی پریس کانفرنس کو سیاسی ڈرامہ قرار دیا ہے اور کہا کہ اس کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرما ہے۔
رابطہ کمیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ راؤ انور نے جھوٹ بولا ہے، طاہر کو رواں سال 26 فروری جبکہ جنید کو 26 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا اور دونوں کی گرفتاری اور گمشدگی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواستیں بھی دائر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے حکیم سعید اور تکبیر کے مدیر صلاح الدین احمد، کے قتل کے الزامات عائد ہوئے لیکن عدالتوں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو باعزت بری کیا اور جناح پور کا الزام کسی ایس پی سطح کے افسر سے نہیں اوپر سے آیا تھا۔
حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ: ’ملک دشمنی اور یہ سب پرانے الزامات ہوچکے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ تو سمجھ رہے تھے کہ نئی کہانی اور ڈرامہ آئے گا، ایسا کچھ نہیں ہوا وہ ہی پرانی کہانی یہاں تک کہ کردار بھی وہ ہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بانیان پاکستان کی اولاد پر گزشتہ دو دہائیوں سے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جن کو وہ مسترد کرتے ہیں۔ یہ حکومت سندھ کا افسر ہے اور اس کی وضاحت ضروری ہے کہ کس کی مرضی سے کسی کے ایما پر یہ گھناؤنی پریس کانفرنس کی گئی۔
حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم سے سوال کرتے ہیں کہ کب تک تہلکہ خیز سیاسی انکشافات کا کھیل چلے گا اور کب تک سیاسی افسران بیٹھ کر ایم کیو ایم پر بہتان بازی کرتے رہیں گے۔ کون ہے جس کو یہ پسند نہیں ہے کہ ہم سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی حمایت نہ کرتے، اور بجلی اور پانی کے لیے آواز نہ اٹھائیں۔
حیدر عباس نے مزید کہا کہ حالات کچھ بھی ہوں وہ الطاف حسین پھر اعتماد کرتے ہیں، ان کا مرنا جینا ایم کیو ایم کے لیے ہے، کل بھی پاکستانی ہونے پر فخر تھا آج بھی ہے ان الزامات سے حوصلے پست نہیں ہوگا۔



