’مسکراتا چہرہ اور پیار بھرا لہجہ‘

یو ایس ایڈ سے پاکستان میں اپنے کرئیر کا آغاز کرنے والی ڈیبرا لوبو یونیورسٹی کے طالب علموں میں بہت مقبول تھیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنیو ایس ایڈ سے پاکستان میں اپنے کرئیر کا آغاز کرنے والی ڈیبرا لوبو یونیورسٹی کے طالب علموں میں بہت مقبول تھیں
    • مصنف, غضنفر حیدر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

آنکھوں میں چمک، مسکراتا ہوا چہرہ اور پیار بھرا لہجہ۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے طلبہ کی زبان سے ادا ہوتے ہیں جب بھی وہ مسز ڈیبرا لوبو کا نام سنتے ہیں۔

55 سالہ امریکی نژاد پاکستانی شہری مسز لوبو پر دو موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے شہید ملت روڈ پر فائرنگ کی اور انھیں ایک گولی جبڑے میں جبکہ دوسری کندھے میں لگی۔

20 سال سے زائد عرصے سے پاکستان میں رہنے والی مسز لوبو کا تعلق امریکی ریاست کیلیفورنیا سے ہے۔

انھوں نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے پبلک ہیلتھ میں پوسٹ گریجویشن کی اور 70 کی دہائی میں ایک پاکستانی شہری سے شادی کر کے پاکستان منتقل ہوگئیں۔

ڈیبرا کے عیسائی شوہر کراچی میں دی امریکن سکول میں ٹیچر ہیں۔ ان کی دو بیٹیاں ہیں جو اس وقت کراچی میں ہی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ سے پاکستان میں اپنے کریئر کا آغاز کرنے والی ڈیبرا لوبو یونیورسٹی میں طالب علموں میں بہت مقبول ہیں۔

ایم بی بی ایس کے سال دوئم کی 21 سالہ طالبِ علم ندا فیروز کہتی ہیں کہ مسز ڈیبرا ہمیشہ خود سے بڑھ کر اپنے طالبِ علموں پر توجہ دیتی تھیں۔

’میں نے انھیں ہنستے مسکراتے ہوئے آخری بار گیٹ کی طرف جاتے دیکھا تھا‘

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشن’میں نے انھیں ہنستے مسکراتے ہوئے آخری بار گیٹ کی طرف جاتے دیکھا تھا‘

’ہم سارے طالبِ علم حیران ہیں اور صدمے میں ہیں۔ کوئی کیسے ان پر حملہ کر سکتا ہے؟ جب بھی ہمیں کسی بھی قسم کا مسئلہ ہوتا وہ ہماری مدد کرتی تھیں۔ وہ ایک استاد نہیں بلکہ دوست اور والدین کی طرح ہمارا خیال کرتی تھیں‘

ایک اور طالبِ علم جو حملے سے کچھ ہی گھنٹے قبل ڈیبرا کے ساتھ تھیں، کہتی ہیں کہ ان کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہو جائے گا۔

’مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ان کو کسی نے جان سے مارنے کی کوشش کی۔ میں ان کے ساتھ اپنے امتحانات کے بارے میں بات کر رہی تھی، میں نے انھیں ہنستے مسکراتے ہوئے آخری بار گیٹ کی طرف جاتے دیکھا تھا۔‘

جناح یونیورسٹی کے طالبِ علموں میں خوف کے ساتھ ساتھ صدمہ اور پریشانی بھی ہے۔

حملے کے فوراً بعد متعدد طالبِ علموں نے ٹوئٹر کا رخ کیا اور مسز لوبو کے لیے دعا کرنے کی اپیل کی۔