خود جنگ لڑنے کی کیا ضرورت ہے؟

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, اطہر کاظمی
- عہدہ, بی بی سی لندن
سعودی عرب کی جانب سے پاکستان سے فوج مانگنے کے بعد ایک سوال اکثر لوگوں کے ذہن میں اٹھ رہا ہے کہ سعودی افواج کے جدید ترین اسلحہ سے لیس ہونے کے باوجود آخر پاکستان سے افواج بھیجنے کا کیوں مطالبہ کیا جا رہا ہے؟
حالیہ برسوں میں سعودی عرب کی جانب سے اسلحہ برآمد کرنے کی شرع میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
گذشتہ برس سعودی عرب چھ ارب ڈالر سے زیادہ کا اسلحہ خریدنے کے بعد اسلحہ برآمد کرنے والے ممالک میں سرِفہرست تھا۔
سعودی افواج جدید ابراہام ٹینکوں، اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹر اور ایف 15 جنگی جہازوں سے لیس ہے۔
اتنے جدید اسلحے کی حامل افواج کو چند ہزار باغیوں سے کیا خطرہ ہوسکتا ہے۔
لیکن اگر دیکھا جائے تو 80 کی دہائی سے پاکستانی افواج کم یا زیادہ تعداد میں سعودی عرب میں موجود رہی ہیں۔
اگرچہ اس کے پیچھے بہت سے دفاعی اور سیاسی عوامل ہو سکتے ہیں جن کے بارے میں بہت کچھ لکھا بھی جا چکا ہے لیکن سعودی افواج کی اہلیت اور نفسیات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان سے براِہ راست رابطے میں رہنے والے افراد سے بات کی جائے۔
ریٹائرڈ کرنل امداد جن کا تعلق پاکستانی افواج کے شعبہ ایئر ڈیفنس سے تھا سنہ 1982 اور 1983 میں سعودی عرب کے شہروں شرورہ اور خمیص میں اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیتے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضع رہے کہ 80 کی دہائی میں پاکستانی افسران سعودی افواج کی تربیت میں پیش پیش تھے اور اسی دور میں بہت سی نئی سعودی یونٹیں اور چھاؤنیاں بنائی گئیں تھیں یا ان کی بنیاد رکھی گئی تھی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ایک فوجی ہونے کے ناطے سے جو چیز میرے لیے بہت حیران کن تھی وہ سعودی فوجیوں کی آرام پسندی تھی۔‘
کرنل امداد کے مطابق سعودی افواج اس وقت بھی جدید امریکی اسلحے سے لیس تھیں لیکن ان میں نظم و ضبط اور تربیت کا فقدان تھا۔
’اگرچہ ہمارے علاوہ امریکی فوجی بھی سعودی افواج کی تربیت کرتے تھے لیکن مجھے جلد ہی احساس ہوگیا کہ یہ فوج جنگ لڑنے کے لیے نہیں بنائی گئی ہے، اس زمانے میں بھی جب شمالی یمن کے ساتھ کشیدگی تھی تو سرحدی شہر نجران کے قریب پاکستانی ایئر ڈیفنس کے دستوں کو تعینات کیا گیا تھا، تاہم بات جنگ تک نہیں پہنچی۔‘
کرنل امداد نے سعودی افواج کے بارے جو کچھ بتایا تین دہائیوں پہلے کی بات ہے۔ آج کی سعودی افواج کے بارے میں جاننے کے لیے ضروری تھا کہ کسی ایسے فوجی افسر سے بات کی جائے جو حال ہی میں سعودی عرب میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہوں۔
اس سلسلے میں پاکستان آرمی کے ایک افسر نے، جو اس وقت سعودی عرب میں افواج کی تربیت کی ذمہ داری انجام دے رہے ہیں، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی بات کر تے ہوئے بتایا: ’پہلے تو میں آپ کو یہ بتادوں کہ اس وقت سعودی عرب میں یمن کی جنگ میں حصہ لینے کےلیے کسی پاکستانی دستے یا یونٹ کو تعینات نہیں کیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں پاکستان کی افواج کے جوان اتنی تعداد میں موجود نہیں کہ انھیں جنگ کے لیے تعینات کیا جائے۔
’ملک میں جوانوں کے مقابلے میں پاکستانی افسران کی تعداد زیادہ ہے جن میں آرمی میڈیکل کور کے ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔ جوانوں کے بغیر جنگیں نہیں لڑی جاتیں، جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی افواج یمن میں کسی سعودی فوجی کارروائی کا حصے ہیں وہ سراسر غلط فہمی کا شکار ہیں۔‘
جب ان سے سعودی افواج کے بارے میں رائے پوچھی گئی تو ان کا کہنا تھا: ’ان کی پاس جدید اسلحہ ہے کچھ چیزیں تو ایسی ہیں جو میں نے یہاں آ کر پہلی بار دیکھی ہیں، ان کی تربیت ہمارے علاوہ امریکی اور فرانسیسی انسٹرکٹر بھی کرتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی فوجیوں میں ڈسپلن کی کمی ہے اگر ان کے ساتھ سختی کی جائے تو یہ کہتے ہیں اتنی سختی مت کرو ’ہم نے کون سی جنگ لڑنی ہے!‘
سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی فوج مانگنے کے مطالبے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جب اس سلسلے میں میری سعودی افسران سے بات ہوتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں پاکستانی فوج کا سعودی عرب کے لیے لڑنا تو سو فیصد گارنٹی ہے۔ وہ اکثر کہتے ہیں کہ ’کیا آپ لوگ اسلام کی سربلندی کا حلف نہیں لیتے؟‘
ان کے مطابق: ’ایسا لگتا ہے کہ سعودی سمجھتے ہیں کہ پاکستانی فوج انھی کی فوج ہے اور شاہد وہ ایسا ہمارے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات کی بنا پر محسوس کرتے ہیں۔‘
جب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ سعودی فوج جنگ کے لیے تیار ہے تو وہ مجھے ایک عربی محاورہ سناتے ہیں جس کا ترجمہ ہے کہ جو کام آپ کے لیے کوئی اور کر سکتا ہے تو اسے خود کرنے کی کیا ضرورت ہے۔‘
ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ سعودی افواج کی تربیت دنیا کے ماہر فوجی انسٹرکٹر کم از کم گذشتہ 35 برس سے کر رہے ہیں، مگر شاید ایک کام جو آپ ذہنی طور پر کرنے کے لیے تیار ہی نہیں اس کی چاہے آپ کتنی ہی تربیت کر لیں وہ بے سود ہے۔







