ایف سی کی کارروائی میں پانچ عسکریت پسند ہلاک

 قومی ایکشن پلان کے اعلان بعد سے بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشن قومی ایکشن پلان کے اعلان بعد سے بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں فرنٹیئر کور کے ساتھ عسکریت پسندوں کی ایک جھڑپ ہوئی ہے جس میں ایف سی نے پانچ عسکریت پسندوں کو ہلاک اور چھ کوز خمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان کے مطابق یہ جھڑپ ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ میں ہوئی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں ایک کالعدم بلوچ قوم پرست عسکریت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد کی موجودگی کی اطلاع تھی۔

اس اطلاع پر ایف سی نے وہاں سرچ آپریشن کیا جس کے دوران وہاں موجودعسکریت پسندوں نے ایف سی کے اہلکاروں پر فائر کھول دیا ۔

ترجمان کے مطابق جوابی فائرنگ سے پانچ عسکریت پسند ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے۔

ایف سی کے مطابق اس آپریشن میں فرنٹیئر کور کو وزارت داخلہ کے ہیلی کاپٹروں کی مد د بھی حاصل تھی۔

حکام کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے عسکریت پسند چند روز قبل اس علاقے میں سائندک پراجیکٹ کے لیے تیل لے جانے والے آئل ٹینکروں پر حملے میں ملوث تھے۔

اس آپریشن کے حوالے سے کالعدم عسکریت پسند تنظیم یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے ترجمان مرید بلوچ نے میڈیا کے لیے ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق اس آپریشن میں ان کی تنظیم سے تعلق رکھنے والا کوئی عسکریت پسند ہلاک نہیں ہوا ہے ۔

یو بی اے کے ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے عام شہری ہیں۔

ایف سی نے گزشتہ روز بھی ضلع مستونگ کے علاقے منگیچر میں ایک آپریشن میں پانچ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ایف سی کے ترجمان کے مطابق اس آپریشن میں انتہائی مطلوب عسکریت پسند ہلاک کیے گئے۔

اس آپریشن کے دوران وہاں سے اسلحہ وگولہ بارود بھی بر آمد کر کیا گیا جن میں 500 کلوگرام بارود، 150راکٹ اور 1500 ڈیٹونیٹرز شامل ہیں

ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے عسکریت پسند بیرونی ایجنڈے پرعمل پیرا بیرون ملک مقیم لیڈروں کے احکامات پرکافی عرصے سے فورسزپر حملوں، اغواء برائے تاوان اور سول آبادیوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔

خیال رہے کہ موجودہ حکومت کے دور بالخصوص دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی ایکشن پلان کے بعد سے بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے ۔

اس ماہ کے اوائل میں ڈیرہ بگٹی میں دو سرچ آپریشنز کے دوران دس سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔