الطاف حسین نے شیریں مزاری سے معافی مانگ لی

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے پاکستان تحریک انصاف کی ترجمان شیریں مزاری سمیت پارٹی کی خواتین سے معافی مانگی ہے۔
ایم کیو ایم کے قائد نے گذشتہ دنوں کارکنوں سے خطاب کے دوران شیریں مزاری اور پی ٹی آئی کے دھرنے میں شریک خواتین کے خلاف مبینہ طور پر غیر اخلاقی زبان استعمال کی تھی جس پر ان سے معافی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
<link type="page"><caption> ایم کیو ایم الطاف حسین سے علیحدہ ہو جائے: عمران خان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/02/150209_imran_attack_altaf_hk" platform="highweb"/></link>
پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا کہنا تھا کہ وہ دھرنے میں شریک تمام شریف خواتین سے معافی مانگتے ہیں۔
سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے بارے میں رپورٹ کے بعد تحریک انصاف کی سیکریٹری اطلاعات شیریں مزاری نے ایم کیوایم کے ساتھ کسی بھی فورم پر نہ بیٹھنے کا اعلان کیا جس کے بعد الطاف حسین نے انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
متحدہ قومی موومنٹ کےقائد الطاف حسین نے پاکستان تحریک انصاف کی سیکریٹری اطلاعات شیریں مزاری سے بھی ان کا نام لے کر معافی مانگی۔
الطاف حسین کا کہنا ہے کہ ان کے بیان سے شیریں مزاری سمیت دیگر جن خواتین کی دل آزاری ہوئی ہے وہ ان سے معافی مانگتے ہیں۔
الطاف حسین کے بیان کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف نے ان کی معافی قبول کرتے ہوئے اسے خوش آئند اقدام قرار دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم میں بیانات کا تبادلہ
اس سے قبل عمران خان نے پی ٹی آئی کی خواتین ورکروں کے بارے الطاف حسین کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ٹی وی چینلوں کی جانب سے ان بیانات کو نشر کرنے پر بھی تنقید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین نے ہماری خواتین کے خلاف جو بات کی ہم اس پر برطانیہ کی عدالت میں جائیں گے۔
عمران خان نے اس موقعے پر اپنی جماعت سے کہا کہ وہ ایسے کسی فورم پر نہیں بیٹھیں گے جہاں ایم کیو ایم موجود ہو گی۔
یاد رہے کہ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی میں ایک دوسرے کے خلاف بیانات دینے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔
عمران خان نے چند ماہ قبل اسلام آباد میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کراچی کو رہا کرائیں گے جس کے بعد پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی خالد مقبول صدیقی نے ان پر شدید تنقید کی تھی۔
گذشتہ انتخابات میں تحریک انصاف کو غیر متوقع طور پر ایم کیو ایم کی اکثریت سمجھے جانے والے علاقوں سے بھی ووٹ ملے تھے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 250 میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف تحریک انصاف نے بھر پور احتجاج کیا، جس پر دونوں جماعتوں میں انتہائی سخت بیان بازی دیکھی گئی تھی۔







