ایم کیو ایم الطاف حسین سے علیحدہ ہو جائے: عمران خان

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت ایسے کسی فورم پر نہیں بیٹھے گی جہاں ایم کیو ایم موجود ہوگی اور انھوں نے ایم کیو ایم کے اراکین کو تجویز دی ہے کہ وہ اپنے سربراہ الطاف حسین سے الگ ہو جائیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے وزیراعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ پر عمل درآمد کریں۔
انھوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ لندن میں بیٹھ کر پاکستان میں عوام کو ہلاک کرواتے ہیں۔
’279 غریب گھرانے کے لوگ مارے گئے سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں اور اب جے آئی ٹی کی رپورٹ کہتی ہے کہ انھوں نے بھتے کی وجہ سے وہاں آگ لگائی۔وزیراعظم نواز آپ کو ساری سیاسی جماعتوں نےمینڈیٹ دیا ہے ، آپ کی ذمہ داری ہے آپ اس رپورٹ پر ایکشن لیں ۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ بندوقیں لے کر چلنے والوں اور ملیشیا کے خلاف کارروائی کریں۔
عمران خان نے پی ٹی آئی کی خواتین ورکرز کے بارے الطاف حسین کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور پیمرا اور ٹی وی چینلز کی جانب سے ان بیانات کو نشر کرنے پر بھی تنقید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین نے ہماری خواتین کے خلاف جو بات کی ہم اس پر برطانیہ کی عدالت میں جائیں گے۔

عمران خان نے اس موقع پر اپنی جماعت سے کہا کہ وہ ایسے کسی فورم پر نہیں بیٹھیں گے جہاں ایم کیو ایم موجود ہوگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے ایم کیو ایم کے اراکین کو بھی تجویز دی کہ وہ الطاف حیسن سے الگ ہو جائیں۔
تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کا الزام ہے اور جماعت کے سابق رہنما عمران فاروق کا کیس بھی موجود ہے۔
’جو دو گواہ حکومت نے عمران فاروق کے قتل کے حوالے سے یہاں رکھے ہوئے ہیں انھیں برطانیہ کے حوالے کیا جائے۔‘
انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ الطاف حیسن کے خلاف برطانوی حکومت کو خط لکھیں گے کیونکہ زہرا شاہد کو الطاف حسین کے بیان کے بعد قتل کیا گیا۔
عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کراچی کو الطاف حسین کی دہشت گردی سے بچائیں گے۔انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایم کیو ایم اپنے لوگوں کو خود مارتی ہے۔’عظیم طارق کے بیٹے نے مجھے بتایا کہ جنھوں نے میرے والد کو مارا تھا انھوں نے ہی شام کو ان کی لاش اٹھائی تھی۔‘
دوسری جانب عمران خان کی پریس کانفرنس کے بعد ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کر کے عمران خان کے بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوری نے الزام عائد کیا کہ عمران خان نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے بیان دیا ہے۔
’موجودہ حالات و واقعات یہ بات بتا رہے ہیں کہ عمران حان کی تقریر دھرنوں کی طرح کسی پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے۔‘
متحدہ قومی مومنٹ کا کہنا ہے کہ عمران فاروق کے قتل کے حوالے سے ایم کیو ایم کے کسی رکن پر کے خلاف کوئی کیس نہیں چل رہا اور عمران خان قوم کے ساتھ غلط بیانی کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی میں ایک دوسرے کے خلاف بیانات دینے کا یہ پہلا موقع نہیں۔
عمران خان نے چند ماہ قبل اسلام آباد میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کراچی کو رہا کرائیں گے جس کے بعد پارلیمینٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی خالد مقبول صدیقی نے ان پر شدید تنقید کی تھی۔
گزشتہ انتخابات میں تحریک انصاف کو غیر متوقع طور پر ایم کیو ایم کی اکثریت سمجھے جانے والے علاقوں سے بھی ووٹ ملے تھے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 250 میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف تحریک انصاف نے بھر پور احتجاج کیا، جس پر دونوں جماعتوں میں انتہائی سخت بیان بازی دیکھی گئی تھی۔







