’قراردادوں پر عمل نہ کرنے والا ملک خصوصی حیثیت کا حقدار نہیں‘

وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان ہونے والے جوہری سمجھوتے سے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن متاثر ہوگا۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

’سیاسی اور اقتصادی مقاصد کے لیے بھارت اور امریکہ کے درمیان جوہری سمجھوتے پر عملدرآمد سے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بری طرح متاثر ہوگا۔‘

امریکی صدر اوباما کے دورہ بھارت کے دوران کیے گئے معاہدوں اور بیانات پر ردِعمل پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ ’پاکستان اپنی قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ کا حق محفوظ رکھتا ہے‘۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ ان معاہدوں سے ملک کی سکیورٹی پر طویل المدتی اثرات مرتب ہوں گے۔

’ایسا ملک جو جموں اور کشمیر کے تنازعے جیسے عالمی امن اور سلامتی کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں کی خلاف ورزی کرتا ہو کسی بھی طور پر سلامتی کونسل میں خصوصی حیثیت کا حقدار نہیں ہے۔‘

سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان بھارت کو رکنیت دینے کے لیے نیوکلئیر سپلائرز گروپ کی طرف سے کسی ملک کو خصوصی استثنیٰ دینے کی بھی مخالفت کرتا ہے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری کا اہم شراکت دار ہے اور وہ دوسروں سے بھی اسی طرح کے عزم کی توقع رکھتا ہے۔

’پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور اس سے جنوبی ایشیا میں سٹریٹیجک استحکام اور توازن کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی توقع رکھتا ہے۔‘

مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ ہندوستان سلامتی کونسل میں کسی خصوصی مرتبے کا اہل نہیں ہے۔

ہندوستان نے تنازع کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی اور ہندوستان سلامتی کونسل میں کسی خصوصی مرتبے کا اہل نہیں ہے۔‘

سرتاج عزیز نے کہا کہ دہشت گردی کے عالمی خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ ’انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان بین الاقوامی برادری میں سرفہرست شراکت دار ہے۔‘

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہندوستان دو ہزار سات کے سمجھوتہ ایکسپریس کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دے۔