بلوچستان بلدیاتی انتخابات: میئر اور چیئرمینوں کا انتخاب آج

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بدھ کو بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں کوئٹہ کے میئر اور نائب میئر کے علاوہ دیگر اضلاع کی کارپوریشنوں کے ضلعی چیئرمین اور نائب چیئرمین منتخب کیے جائیں گے۔
صوبے کے 32 اضلاع میں تقریباً ساڑھے دس ہزار سے زائد کونسلر اپنے عہدوں کا حلف اٹھائیں گے جس کے بعد وہ بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کا انتخاب کریں گے۔
سپریم کورٹ نے چاروں صوبائی حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم جاری کیا تھا لیکن صرف بلوچستان حکومت نے اس حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے دسمبر 2013 میں بلدیاتی انتخابات منعقد کرائے تھے۔
جس کے ایک سال کے بعد دوسرے مرحلے میں خواتین، مزدوروں ، کسانوں اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے انتخابات ہوئے۔
بدھ کو بلوچستان میں کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے میئر اور نائب میئر منتخب کیے جائیں گے، جبکہ چمن، پشین، تربت اور خضدار میونسپل کارپوریشن، 53 شہری میونسپل کمیٹیوں اور 32 ضلعی کونسل کے لیے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب ہوگا۔
صوبے کے بلدیاتی انتخابات میں دو ہزار 232 خواتین کونسلر منتخب کی گئی ہیں جبکہ 152 نشستیں اب بھی خالی ہیں۔
اسی طرح اقلیتوں کی 740 مخصوص نشستوں میں سے 514 نشستیں خالی رہ گئی ہیں۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ دیہی علاقوں کی نشستیں ہیں جہاں ہندو یا عیسائی آبادی موجود نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کے علاقے مکران ڈویژن میں 724 کونسلروں کی نشستوں پر کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا۔ اس علاقے میں عام انتخابات میں بھی کم ووٹ ڈالے گئے تھے۔ یہاں بلوچ علیحدگی پسند کافی مقبول ہیں۔
پہلی بار بلدیاتی انتخابات میں سیاسی بنیادوں پر ووٹ ڈالے گئے جس میں نیشنل پارٹی، بی این پی مینگل، بی این پی عوامی، مسلم لیگ ن، جمعیت علما اسلام فضل الرحمان، جے یو آئی نظریاتی، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی نے کامیابی حاصل کی ہے۔
تحریک انصاف، مسلم لیگ ق اور پاکستان پیپلز پارٹی چند علاقوں تک محدود رہی ہیں۔
نیشنل پارٹی، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی اور مسلم لیگ ن پر مشتمل حکمران اتحاد نے بلدیاتی اداروں میں اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
کوئٹہ سمیت کئی علاقوں میں مشترکہ امیدوار بھی سامنے لائے گئے جس کے بعد یہ امکان ہے کہ یہاں ٹکراؤ نہیں ہوگا جس طرح دیگر صوبوں میں نظر آتا ہے۔







