کراچی میں ’القاعدہ کمانڈر سمیت سات شدت پسند ہلاک‘

کراچی میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں تیزی آئی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکراچی میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں تیزی آئی ہے
    • مصنف, حسن کاظمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں پولیس نے ایک چھاپے کے دوران القاعدہ کے کمانڈر سمیت سات دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے مطابق ان کی ٹیم نے جمعرات کی صبح ساڑھے دس بجے کے قریب خفیہ اطلاع ملنے پر سہراب گوٹھ میں واقع مدینہ کالونی کے ایک مکان پر چھاپہ مارا۔

چھاپے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں وہاں موجود سات مبینہ شدت پسند مارے گئے، تاہم پولیس کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

ایس ایس پی ملیر کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں القاعدہ کا ایک مقامی کمانڈر پرویز پرو بھی شامل ہے جس نے چھاپے کے دوران ان کے ساتھ موجود ایک ایس ایچ او پر حملہ بھی کیا۔

ایس ایس پی ملیر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں غیر قانونی تحریک طالبان پاکستان سندھ کا امیر ارشاد اللہ عرف نیاز زخمی ہوا ہے لیکن فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

پولیس حکام کے مطابق زخمی عسکریت پسند کی تلاش کے لیے گھر گھر تلاشی بھی لی مگر اس میں کامیابی نہیں مل سکی۔

راؤ انوار کا کہنا ہے کہ یہ ملزمان پولیس اہکاروں پر حملے میں بھی ملوث تھے جبکہ ان کے خلاف دہشت گردی، اغوا برائے تاوان کے متعدد کیس درج تھے۔ ان کے کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے بڑی تعداد میں جدید ساخت کا اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔

گذشتہ ماہ کی 22 تاریخ کو پولیس نے سہراب گوٹھ میں ہی ایک کارروائی میں 13 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ ایک کو گرفتار کر لیا تھا۔