راولپنڈی: امام بارگاہ میں دھماکہ، سات ہلاک، متعدد زخمی

آر پی او اختر عمر حیات لالیکا نے واقعے میں سات ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنآر پی او اختر عمر حیات لالیکا نے واقعے میں سات ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کی امام بارگاہ ابو محمد رضوی میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے ہیں۔

ابو محمد رضوی کی امام بارگاہ میں یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب وہاں محفلِ میلاد جاری تھی۔

ریجنل پولیس آفسر اختر عمر حیات لالیکا نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور نے امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر آ کر موٹرسائیکل روکی اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی تاہم ڈیوٹی پر موجود سکیورٹی گارڈ نے اسے اندر جانے سے روکا جس پر اس نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔

آر پی او اختر عمر حیات لالیکا نے واقعے میں سات ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

اس سے قبل ہنگامی حالت سے نمٹنے کے امدادی ادارے ریسکیو 1122 کےترجمان محمد وقاص نے بی بی سی کو بتایا کہ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہسپتال اور بے نظیر ہسپتال راولپنڈی میں منتقل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے تین لاشوں سمیت 16 زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا۔

راولپنڈی پولیس کے ایک اہل کار راجہ عبدل رشید نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں چار عام شہری اور ایک پولیس اہل کار بھی شامل تھا۔ ان کے مطابق دھماکے میں 16 افراد زخمی ہوئے۔

راجا عبدل رشید کا مزید کہنا تھا کہ حکام کا خیال ہے کہ حملہ آور نے امام بارگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی اور جب اسے روکا گیا تو اس نے خود دھماکہ خیز مواد سےکو اڑا لیا۔

راولپنڈی انتظامیہ کے ایک اہل کار ساجد ظفر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو سات افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس وقت امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا تو وہاں 100 سے 150 افراد موجود تھے اور وہاں محفلِ میلاد کی تقریب جاری تھی۔

ڈی ایچ کیو ہسپتال راولپنڈی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک پانچ لاشیں اور آٹھ زخمی ہسپتال لائے گئے ہیں جس کے بعد ہسپتال میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

شعیہ علما کونسل نے راولپنڈی کے امام بارگاہ ابو محمد رضوری میں ہونے والے خود کش دھماکے کے خلاف ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنشعیہ علما کونسل نے راولپنڈی کے امام بارگاہ ابو محمد رضوری میں ہونے والے خود کش دھماکے کے خلاف ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے

دوسری جانب وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ وزیراعظم نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب شہاز شریف نے راولپنڈی کے امام بارگاہ ابو محمد رضوری میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔

ادھر شعیہ علما کونسل نے راولپنڈی کے امام بارگاہ ابو محمد رضوری میں ہونے والے خود کش دھماکے کے خلاف ملک بھر میں تین روزہ سوگ اور سنیچر کو پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایک مقامی رہائشی سعدیہ عثمانی نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے وقت امام بارگاہ ابو محمد رضوری میں محفلِ میلاد کی ایک تقریب جاری تھی جہاں سے زور دار دھماکے کی آواز آئی۔

انھوں نے بتایا ’امام بارگاہ تک جانے کا راستہ انتہائی تنگ ہے جس کی وجہ سے وہاں ایمبولینس کا داخلہ ممکن نہیں۔‘

سعدیہ کے بقول زخمیوں کو ریڑھیوں پر رکھ کر گلی سے باہر ایمبولینس تک لایا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے ایمبولینس پہنچ چکی ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ دھماکہ خودکش تھا، خودکش بمبار نے امام بارگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم اسے روکنے پر اس نے خود کو اڑا لیا۔ جس وقت امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا اس وقت لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بجلی نہیں تھی اور اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کش حملہ آور امام بارگاہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔

ریسکیو اور پولیس کی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ چکی ہیں جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں سیکورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔