ملتان جیل میں دو شدت پسندوں کو پھانسی دے دی گئی

پاکستان کی مختلف عدالتوں میں ان دونوں شدت پسندوں کی رحم کی ایپلیں مسترد ہو چکی تھیں جس کے بعد صدر مملکت نے بھی ان کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپاکستان کی مختلف عدالتوں میں ان دونوں شدت پسندوں کی رحم کی ایپلیں مسترد ہو چکی تھیں جس کے بعد صدر مملکت نے بھی ان کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں

پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر ملتان کی سینٹرل جیل میں قید کالعدم تنظیم کے دو شدت پسندوں کو بدھ کو علی الصبح پھانسی دے دی گئی ہے۔

شدت پسند علی احمد عرف شیش ناگ اور غلام شبیر عرف ڈاکٹر کو ملتان کی سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی۔

علی احمد عرف شیش ناگ نے سات جنوری سنہ 1998 کو مذہبی تنازعے پر تین افراد کو، جبکہ غلام شبیر عرف ڈاکٹر نے اکتوبر سنہ 1998 میں ڈی ایس پی خانیوال اور ان کے ڈرائیور کو قتل کیا تھا۔

شدت پسند غلام شبیر عرف ڈاکٹر کو بدھ کی صبح 5:34 پر پھانسی دی گئی۔

پاکستان کی مختلف عدالتوں میں ان دونوں شدت پسندوں کی رحم کی ایپلیں مسترد ہو چکی تھیں جس کے بعد صدر ممنون حسین نے بھی ان کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں۔

ملتان کی سینٹرل جیل میں پھانسی دیے جانے کے موقعے پر جیل اور اطراف میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔

اس موقعے پر فوجی دستے جیل کے باہر جبکہ ایلیٹ فورس کے اہلکار جیل کے اندر تعینات تھے۔

پاکستان میں سزائے موت پر پابندی ختم ہونے کے بعد سے اب تک نو مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے پشاور میں گذشہ ماہ 16 دسمبر کو طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 141 افراد کی ہلاکت کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے برسرِاقتدار آنے کے بعد پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کی بحالی کا عندیہ دیا تھا۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا اور سنہ 2008 سے سنہ 2013 کے دوران صرف دو افراد کو پھانسی دی گئی تھی اور ان دونوں کو فوجی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔