لکھوی کی نظربندی ختم کرنے کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصر الملک نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں نامزد ملزم ذکی الرحمن لکھوی کی نظربندی ختم کرنے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔
جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا دو رکنی بینچ چھ جنوری کو اس درخواست کی سماعت کرے گا۔
وفاقی حکومت نے اس درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاق کے وکیل کو سنے بغیر ہی ملزم کی نظربندی کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کے یکطرفہ فیصلے انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ذکی الرحمٰن لکھوی کو وفاقی حکومت کی طرف سے تین ماہ کے لیے نظربند کرنے کا حکم معطل کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دیا تھا۔
دوسری جانب اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے محکمے یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ملزم ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت منظور کرنے کے انسداد دہشت گردی کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
جسٹس شوکت صدیقی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ اس درخواست کی سماعت کرے گا۔
ایف آئی اے کی طرف سے اس مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری اظہر کی جانب سے دائر کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد کی انسداد دہشت گری کی عدالت کی طرف سے 18 دسمبر کو ملزم ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت کو منسوخ کیا جائے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت نے فیصلہ دیتے وقت شواہد کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا اس کے علاوہ پراسیکیوٹر کو دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ استغاثہ کے گواہوں کو بھی ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اگر ملزم کی ضمانت کو منسوخ کرتے ہوئے اُنھیں دوبارہ گرفتار نہ کیا گیا تو ملزم استغاثہ کے ثبوتوں پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت منظور ہونے پر بھارتی قیادت نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کریں۔







