لکھوی نظربندی: اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

ذکی الرحمٰن لکھوی کو گذشتہ ماہ 30 دسمبر کو رہائی کے حکم نامے کے بعد ایک اور مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنذکی الرحمٰن لکھوی کو گذشتہ ماہ 30 دسمبر کو رہائی کے حکم نامے کے بعد ایک اور مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا

وفاقی حکومت نے ممبئی حملہ کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کی تین ماہ کے لیے نظربند کرنے کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے معطل کیے جانے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

دوسری جانب مقامی عدالت نے جمعرات کو ایک دوسرے مقدمے میں ذکی الرحمٰن لکھوی کو دو ہفتے کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وفاق نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں پٹیشن جمع کرائی۔

اس پٹیشن میں وفاق نے موقف اختیار کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو وفاق کے نظربند کرنے کے فیصلے کو معطل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کی 26 تاریخ کو ذکی الرحمٰن لکھوی کے وکیل نے 16 ایم پی او کے تحت اپنے موکل کی نظربندی کو چیلنج کیا تھا، اور عدالت نے اس ضمن میں حکومت سے 29 دسمبر کو جواب طلب کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نورالحق قریشی نے اپنے حکم نامے میں لکھا تھا کہ وفاقی حکومت جواب داخل کروانے کی بجائے مزید مہلت مانگتی رہی، تاہم اس نے ان وجوہات کا ذکر نہیں کیا کہ انھیں کس سلسلے میں مہلت درکار ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے گذشتہ ہفتے ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت منظور ہونے کے بعد اُنھیں خدشۂ نقصِ امن کے تحت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل ہی میں نظر بند کر دیا تھا۔

ادھر بھارتی حکومت نے ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس عدالتی فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرے۔

دوسری جانب مقامی عدالت نے جمعرات کو ممبئی حملہ کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کو دو ہفتے کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

ذکی الرحمٰن لکھوی کے وکیل رضوان عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے موکل کی ضمانت کے لیے جمعے کو اپیل دائر کریں گے۔

لکھوی الرحمن کے وکیل رضوان عباسی کے مطابق ان کے موکل کو ایک چھ سالہ پرانا مقدمہ کھول کر پھنسایا جا رہا ہے جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ موکل گذشتہ چھ سال سے جیل میں ہے۔

یاد رہے کہ ذکی الرحمٰن لکھوی کو گذشتہ ماہ 30 دسمبر کو رہائی کے حکم نامے کے بعد ایک اور مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔