والی بال میچ کے دوران دھماکہ تین ہلاک، سات زخمی

کلایہ کا یہ علاقہ حسینی گڑھی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہاں یشتر افراد کا تعلق اہل تشیع سے ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکلایہ کا یہ علاقہ حسینی گڑھی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہاں یشتر افراد کا تعلق اہل تشیع سے ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے لوئر اورکزئی ایجنسی میں کلایہ کے قریب والی بال کے میدان میں دھماکے سے ایک بچے سمیت تین افراد ہلاک جبکہ نو لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکہ مغرب سے تھوڑی دیر پہلے اس وقت ہوا جب میدان میں بڑی تعداد میں نوجوان کھیل میں مصروف تھے۔ پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد میدان میں نصب کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق دھماکہ ایجنسی ہیڈ کوارٹر کلایہ سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر کھڈا بازار میں ہوا ہے۔

کھڈا بازار مصروف اور گنجان آباد علاقہ ہے جہاں شام کے وقت زیادہ گہما گہمی رہتی ہے ۔ کھیل کے میدان میں جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت مقامی نوجوان والی بال کا میچ کھیل رہے تھے۔

ہلاک ہونے والے ایک بچے کی عمر 12 سال جبکہ دو نوجوانوں کی عمر 25 اور 30 سال کے درمیان بتائی گئی ہے۔

تاحال اس حملے کی ذمہ داری کی ذمہ داری کسی گروہ سے قبول نہیں کی ہے۔

کلایہ کا یہ علاقہ حسینی گڑھی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہاں یشتر افراد کا تعلق اہل تشیع سے ہے۔ اس علاقے میں اس سے پہلے بھی متعدد

دھماکے ہو چکے ہیں۔

یاد رہے یکم جنوری سال 2010 میں خیبر پختونخوا کے شہر لکی مروت میں شاہ حسن خیل میں بھی والی بال میچ کے دوران خود کش دھماکہ کیا گیا تھا جس میں اس وقت 105 افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

شاہ حسن خیل کا حملہ اس وقت خیبر پختونخوا کا دوسرا بڑا دھماکہ تھا۔ اس سے پہلے پشاور میں اکتوبر سال 2009 میں شاہین بازار میں دھماکے میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔