’عدالتیں شدت پسندی کے مقدمات کی سماعت روزانہ کریں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ نے انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کو شدت پسندی سے متعلق مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا حکم دیا ہے۔
چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات اور ان عدالتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے بدھ کو ایک اجلاس منعقد ہوا۔
یہ اجلاس گذشتہ ہفتے پشاور میں سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کے بعد انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کو فوری طور پر نمٹانے کے لیے بلایا گیا تھا۔
اجلاس میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں دس سے 15 فیصد ایسے مقدمات زیرِ سماعت ہیں جو شدت پسندی اور بم دھماکوں کے بارے میں ہیں جن میں مبینہ طور پر کالعدم تنظیمیں ملوث ہیں۔
اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے جج سماعت کے دوران گواہوں، وکیل استغاثہ اور وکیل صفائی کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ مقررہ تاریخ پر عدالت میں حاضر ہوں تاکہ ایسے مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرتے ہوئے انھیں جلد از جلد نمٹایا جا سکے۔
اجلاس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ بلوچستان اور مالاکنڈ ڈویژن میں فرنٹیئر کور اور لیویز کے اہلکاروں کی جگہ ڈیپیوٹیشن پر پولیس افسران کو لگایا دیا جائے جنھیں مقدمات کے اندراج اور ان کی تفتیش کی تربیت دی جاتی ہے۔
اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی کارکردگی کو مانیٹر کرنے والے ہائی کورٹس کے جج صاحبان مہینے میں ایک مرتبہ اجلاس طلب کریں گے جس میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے ججوں کے علاوہ پراسیکیوٹر، جیل حکام اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کے افسران سمیت تمام سٹیک ہولڈر شریک ہوں گے۔
اس اجلاس کی کارروائی سپریم کورٹ کے اُن ججوں کو بھجوائی جائے گی جو متعلقہ ہائی کورٹس کی کارکردگی کو مانیٹر کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اجلاس میں صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کو دوسری جگہ منتقل کر دیں۔
اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ شدت پسندی کے مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف جو اپیلیں ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں ان کو الگ کر دیا جائے تاکہ ایسی اپیلوں کو سماعت کے لیے ترجیح دی جا سکے۔
اجلاس میں قانون و انصاف کمیشن کے سیکریٹیریٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا جائزہ لے اور اس ضمن میں سفارشات مرتب کرے تاکہ اس حوالے سے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔







