راولپنڈی: پھانسیوں پر حکمِ امتناع خارج، سزائیں برقرار

پھانسی روکنے کے عدالتی فیصلے کو وفاقی حکومت کی جانب سے چیلنج کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہLAHORE

،تصویر کا کیپشنپھانسی روکنے کے عدالتی فیصلے کو وفاقی حکومت کی جانب سے چیلنج کیا گیا تھا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے سزائے موت کے پانچ قیدیوں کی سزا پر عملدرآمد روکنے کے احکامات کے خلاف حکومتی اپیل منظور کر لی ہے۔

سنہ 2012 میں گجرات میں ایک فوجی کیمپ پر حملے کا جرم ثابت ہونے پر احسان عظیم، عمر ندیم، آصف ادریس، کامران اسلم اور عامر یوسف نامی افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔

وزیرِ اعظم کی جانب سے حال ہی میں دہشت گردی کے مجرموں کی سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد پابندی ہٹانے کے بعد ان افراد نے عدالت میں درخواست دی تھی۔

اس پر جج جسٹس ارشد تبسم نے پیر کو ان پانچوں قیدیوں کی سزا پر عملدرآمد روکنے کا حکم دیا تھا۔

وزیرِ اعظم کے اس حکم کے بعد عدالتی فیصلے کو وفاقی حکومت کی جانب سے چیلنج کر دیا گیا تھا۔

بدھ کو اس معاملے کی سماعت راولپنڈی میں ہوئی اور جج ارشد تبسم نے مختصر سماعت کے بعد حکومتی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو کہ دوپہر ڈھائی بجے سنایا گیا۔

اپنے مختصر فیصلے میں عدالت نے حکمِ امتناع ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ مجرموں کو سزا قانون کے تمام تقاضے پورے کرنے کے بعد دی گئی۔

اس فیصلے کے بعد ان افراد کی سزا پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹ دور ہوگئی ہے اور دوبارہ ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کے بعد انھیں پھانسی دی جا سکے گی۔

بدھ کو سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ نہ صرف ان مجرموں پر منصفانہ مقدمہ چلا بلکہ انھیں اپیل کا حق بھی دیا گیا تھا جو انھوں نے استعمال کیا۔

سانحۂ پشاور کے بعد وزیرِ اعظم نواز شریف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد پابندی ختم کر دی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسانحۂ پشاور کے بعد وزیرِ اعظم نواز شریف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد پابندی ختم کر دی تھی

تاہم مجرمان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل تو یہ بھی نہیں جانتے کہ انھیں کس جرم میں سزا دی گئی ہے۔

مجرمان کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ ابھی تک کورٹ مارشل کے فیصلے اور آرمی چیف کی طرف سے اُن کے موکلین کو پھانسی دینے کی منظوری کی دستاویزات نہ تو ابھی تک عدالت میں پیش کی گئی ہیں اور نہ ہی ملزمان کو دی گئی ہیں۔

اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حساس دستاویزات ہیں اور ایسے شواہد کو عدالت میں پیش کرنا مفاد عامہ میں نہیں ہے۔

اس معاملے میں حکومتی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ان پانچ مجرمان کو فوجی کیمپ پر فائرنگ کر کے سات اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے مقدمے میں فروری 2014 میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

درخواست میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فوجی عدالت ان مجرمان کی طرف سے دائر کی گئی اپیلیں جون 2014 میں مسترد کر چکی ہے۔

یہ پانچوں قیدی اس وقت کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید ہیں۔

خیال رہے کہ مذکورہ پانچ قیدیوں میں سے دو احسان عظیم اور عمر ندیم کے نام ان 17 قیدیوں کی فہرست میں شامل ہیں جنھیں پہلے مرحلے میں دہشت گردی کے جرائم میں سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پشاور میں سکول پر طالبان کے حملے میں 134 طلبا اور عملے کے نو ارکان ہلاک ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپشاور میں سکول پر طالبان کے حملے میں 134 طلبا اور عملے کے نو ارکان ہلاک ہوئے ہیں

سزائے موت کی بحالی پر یورپی یونین کی مذمت

ادھر یورپی یونین نے پاکستان کی جانب سے سزائے موت دیے جانے پر عائد پابندی اٹھانے کی مذمت کرتے ہوئے پابندی کی بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان میں یورپی یونین کے مشن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں سانحۂ پشاور کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ غم کی اس گھڑی میں پاکستان کے ساتھ ہے لیکن مجرمان کو سزائے موت دینے کی حامی نہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سزائے موت موثر ہتھیار نہیں۔‘

یورپی ممالک کی تنظیم کی جانب سے پاکستانی حکومت کے سزائے موت دیے جانے کے فیصلے پر افسوس اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے یہ امید بھی ظاہر کی گئی ہے کہ پاکستان جلد از جلد پابندی بحال کر دے گا۔

17 دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے اگلے ہی دن وزیرِ اعظم نواز شریف نے دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے مجرموں کی سزا پر عمل درآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان کے بعد اب تک جی ایچ کیو پر حملے کے ایک مجرم محمد عقیل عرف ڈاکٹر عثمان اور سابق صدر پرویز مشرف پر حملے کے پانچ مجرمان سابق نائیک ارشد محمود، غلام سرور بھٹی، راشد محمود قریشی عرف ٹیپو، زبیر احمد اور اخلاص روسی کو فیصل آباد میں پھانسی دی جا چکی ہے۔