پشاور سانحہ: قومی ایکشن پلان کمیٹی کا پہلا اجلاس جمعہ کو

دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف یہ جنگ ہماری جنگ ہے: نواز شریف

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف یہ جنگ ہماری جنگ ہے: نواز شریف

پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے قائم کی جانے والی قومی کمیٹی کے لیے اپنے اپنے نمائندے نامزد کر دیے ہیں۔

دہشتگردی کے خلاف ایک قومی سطح کا لائحہ عمل ترتیب دینے کی غرض سے بنائی جانے والی ’نیشنل ایکشن پلان‘ کمیٹی کا پہلا جالاس جمعے کو اسلام آباد میں ہوگا۔

وزیر داخلہ چوہدی نثار علی خان کی قیادت میں کام کرنے والی اس کمیٹی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی نے سینیٹر رحمان ملک، پاکستان تحریک انصاف نے ڈاکٹر شیریں مزاری اور جمیعت علماِ اسلام (ف) نے اکرم درانی کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے اپنی جانب سے ڈاکٹر فاروق ستار اور سینیٹر بابر غوری کے نام تجویز کیے ہیں جبکہ جماعت اسلامی نے فرید پراچہ کا نام تجویز کیا ہے۔ قومی وطن پارٹی کی جانب سے انیسہ طاہر خیلی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے جانب سے سینیٹر سید مشاہد حسین کے نام پیش کیے گئے ہیں۔

جمعرات کو وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں پشاور میں پاکستان کی سرکردہ سیاسی جماعتوں مشترکہ اجلاس کے بعد کیے جانے والے مشترکہ اعلامیے کے مطابق ’نیشنل ایکشن پلان‘ کمیٹی ایک ہفتے میں اپنی تجاویز تیار کرے گی جنھیں منظوری کے لیے ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کو پیش کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے دہشتگردی کے خلاف پارلیمانی کمیٹی کے قیام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور کے سانحے نے تمام سیاسی قوتوں کو متحد کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کو پشاور میں ملک کی سیاسی قیادت کے اجلاس کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ ’دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف یہ جنگ ہماری جنگ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر اور قومی جذبات کا آئنہ دار لائحہ عمل تیار کرکے اس پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔‘

بدھ کو ہی اسلام آباد واپس پہنچنے پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ’ملک میں سکیورٹی کی موجودہ صورت حال کے پیش ِنظر‘ تقریباً چار ماہ سے اسلام آباد میں جاری احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

دھرنے سے اپنے آخری خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کانفرنس میں وزیراعظم نواز شریف کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔