طالبان دھڑے کا آرمی پبلک سکول پر حملے پر مذمتی بیان

طالبان کے دھڑے کے رہنما احسان اللہ احسان نے کہا ہے کہ حملے میں ان کا گروہ شامل نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنطالبان کے دھڑے کے رہنما احسان اللہ احسان نے کہا ہے کہ حملے میں ان کا گروہ شامل نہیں ہے

پاکستان میں شدت پسندوں کی غیرقانونی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے علیحدہ ہو جانے والے دھڑے جماعت الحرار نے پشاور میں سکول حملے کے مسئلے پر افغان طالبان کے بیان کی تائید کی ہے۔ افغان طالبان نے اس حملے کی مذمت کی تھی۔

اپنے آپ کو تحریک طالبان پاکستان جماعت الحرار کہلوانے والے اس دھڑے کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان نے پشاور حملے سے متعلق جو بیان دیا ہے وہ اس کی سو فیصد تائید کرتے ہیں۔

احسان کا کہنا تھا کہ ملا محمد عمر ان کے امیر ہیں اور انہوں نے اس حملے کی بابت جو کہا ہے وہ اس سے متفق ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حملے میں ان کا گروہ شامل نہیں تھا۔

جماعت الحرار گزشتہ دنوں مرکزی تنظیم سے اختلافات کے باعث الگ ہوگئی تھی۔

ادھر تحریک طالبان نے آج تیسرے روز بھی سکول حملے کا دفاع کرنے کے لیے ایک اور بیان میڈیا کو ارسال کیا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ میڈیا انہیں ذہن میں رکھے۔ مرکزی ترجمان محمد خراسانی کا کہنا تھا کہ سکول میں زیر تعلیم اکثر بچوں کی عمریں اٹھارہ سے پچیس سال تھیں۔

ان بیانات سے بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ تحریک طالبان کو میڈیا میں ان کے خلاف بیانات کی کوریج پر شدید تشویش ہے۔ بیان میں حملہ آوروں کی ناموں کے ساتھ نئی تصویر بھی جاری کی گئی ہے۔