’ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں‘

حملہ آوروں نے ایک مرتبہ پھر اپنی سیاہ کاری کا ثبوت دیا ہے: صدر اوباما

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنحملہ آوروں نے ایک مرتبہ پھر اپنی سیاہ کاری کا ثبوت دیا ہے: صدر اوباما

امریکی صدر براک اوباما، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت دیگر عالمی رہنماؤں نے پشاور میں طالبان کے حملے میں 130 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق صدر براک اوبامانے حملے کی مذمت کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ شدت پسندی کے خلاف جدو جہد میں امریکہ پاکستان سے کھڑا ہوگا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ’اس بہیمانہ حملے میں اساتذہ اور طلبا کو نشانہ بنا کر حملہ آوروں نے ایک مرتبہ پھر اپنی سیاہ کاری کا ثبوت دیا ہے۔

’ہم پاکستان کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور امریکہ کے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ اور خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستانی حکومت کی کوششوں میں اس کی مدد کریں گے۔‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے سکول پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کے مناظر ’دردناک‘ ہیں۔ لندن آئے ہوئے جان کیری کا کہنا تھا کہ ’والدین اپنے بچوں کو علم حاصل کرنے، اپنے خوابوں کو پورا کرنے اور نئی چیزیں سیکھنے کے لیے سکول بھیجتے ہیں، لیکن آج جو ہوا وہ اس کے برعکس تھا۔ ان بچوں کو مار دیا گیا۔ ان بچوں کو تاریک اور دقیانوسی خیالات کے مالک طالبان قاتلوں نے موت کی نید سلا دیا۔‘

نریندر مودی نے اسے بے حس افراد کی وحشیانہ کارروائی قرار دیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشننریندر مودی نے اسے بے حس افراد کی وحشیانہ کارروائی قرار دیا ہے

اس سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’پشاور میں سکول پر بزدلانہ حملے کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔ یہ ناقابلِ بیان وحشت پر مبنی بےحس افراد کا حملہ ہے جس نے معصوم ترین انسانوں کی جان لی ہے جو سکول جانے والے بچے ہیں۔‘

مودی نے یہ بھی کہا کہ انھیں اس واقعے میں ہلاک ہونے والے لوگوں کی جانوں کے ضیاع پر بہت دکھ ہوا۔’ہم ان کا دکھ سمجھتے ہیں اور اس میں برابر کے شریک ہیں۔‘

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان کے شہر پشاور میں آرمی پبلک سلوک پر ہونے والے خوفناک حملے کی سخت ترین مذمت کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہماری ہمدردیاں اور دعائیں ہلاک شدگان کے لواحقین اور خاندان والوں کے ساتھ ہیں۔ اس وحشیانہ حملے میں طلبا اور اساتذہ کو نشانہ بنا کر دہشت گردوں نے ایک بار پھر اپنی اخلاقی گراوٹ ثابت کر دی ہے۔‘

براک اوباما نے یہ بھی کہا کہ ’ہم پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور امریکہ کے اس عزم کو دہراتے ہیں کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے لڑنے اور خطے میں امن اور استحکام کی کوششوں میں پاکستانی حکومت کے ساتھ ہیں۔‘

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے پشاور میں طالبان کے حملے کو ’خوفناک‘ قرار دیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبرطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے پشاور میں طالبان کے حملے کو ’خوفناک‘ قرار دیا ہے

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے پشاور میں طالبان کے حملے کو ’خوفناک‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان سے ملنے والی خبر بڑا دھچکا ہے۔ یہ خوفناک بات ہے کہ بچوں کو صرف سکول جانے کی وجہ سے مارا جا رہا ہے۔‘

پاکستان میں تعینات امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے اپنے بیان میں پشاور میں دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی عوام کی جانب سے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کم ہی لوگ دہشت گردی سے اتنے متاثر ہوئے جتنے کے پاکستانی عوام اس لیے یہ امریکہ اور پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے اپنا کام جاری رکھیں۔

بھارتی وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے حملے کی مذمت کے لیے ٹوئٹر کا سہارا لیا اور کہا کہ ’میں پشاور میں سکول پر حملے کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ یہ غیر انسانی حملے دہشت گردی کا اصل چہرہ بے نقاب کرتے ہیں۔ مجھے ان بچوں کے خاندانوں سے دلی ہمدردی ہے جو پشاور میں دہشت گردوں کا شکار بنے۔‘

کابل میں یورپی یونین کے سفیر اور خصوصی نمائندے ایف ایم میلبن نے بھی ٹویٹ کی کہ ’طالبان کی جانب سے بچوں کے قتل عام پر شدید دکھ ہوا۔ اس بات کا بھی شدید غصہ ہے کچھ لوگ اس طرح کے اقدامات کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘