آصف زرداری اے آر وائی گولڈ اور ارسُس ٹریکٹر کیسز میں بری

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
احتساب عدالت نے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو دو مقدمات میں بری کر دیا ہے۔ ان مقدمات میں اے آر وائی گولڈ اور اُسس ٹریکٹر کیس شامل ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے احتساب عدالت آصف علی زرداری کو پولو گراونڈ ریفرنس میں بری کر چکی ہے۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اے آر وائی گولڈ اور ارسُس ٹریکٹر ریفرنس کی سماعت کی تو آصف کی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ان مقدمات میں مرکزی ملزمان بری ہو چکے ہیں لیکن اُن کے موکل کے خلاف ابھی تک مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ یہ خلاف قانون ہے کہ کسی بھی مقدمے کے مرکزی ملزمان کو تو بری کر دیا جائے جبکہ شریک ملزم کے خلاف مقدمے کی کارروائی جاری رکھی جائے۔
اُنھوں نے کہا کہ آصف علی زرداری ان مقدمات کی پیروی کے لیے اس لیے حاضر نہیں ہو سکے کیونکہ اُنھیں صدارتی استثنیٰ حاصل تھا۔
احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ جب کسی مقدمے کے مرکزی ملزمان کے خلاف مقدمات ختم ہو جائیں تو شریک ملزمان کے خلاف کارروائی جاری نہیں رکھی جا سکتی۔
اُنھوں نے ملزم کے وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے آصف علی زرداری کی بریت کی درخواست منظور کر لی جبکہ ایس جی ایس اور کوٹیکنا ریفرنس کی سماعت 18 دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔
ان ریفرنسوں کی سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو نے ملزم کے وکیل کے دلائل سے اختلاف نہیں کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اے آر وائی گولڈ ریفرنس میں آصف علی زرداری پر سونا درآمد کرنے میں کمیشن لینے اور زرعی ترقیاتی بینک کے ساتھ روس سے منگوائے گئےارسُس ٹریکٹروں میں کمیشن لینے کے الزامات تھے۔
اُن پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اُنھوں نے فی ٹریکٹر ڈیڑھ لاکھ روپے کمیشن لیا تھا، تاہم قومی احتساب بیورو ان مقدمات میں ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔







