اسلام آباد: ٹی وی چینلز کی گاڑیوں پر کریکر حملہ

،تصویر کا ذریعہepa
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے داخلی راستے فیض آباد میں نجی نیوز چینلز کی دوگاڑیوں پر کریکر حملے میں کم از کم دو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
اتوار کو اسلام آباد میں تحریک انصاف کا جلسہ تھا اور اس کی کوریج کے لیے مقامی نیوز چینلز نے اضافی اقدامات کر رکھے تھے اور اس حوالے سے اسلام آباد ہائی وے پر فیض آباد کے مقام پر نجی ٹی وی چینلز کی لائیور کوریج کرنے والی گاڑیاں ’ڈی ایس این جی‘ بھی کھڑی تھیں۔
ڈان نیوز کے مطابق فیض آباد میں ان کی ڈی ایس این جی اور دنیا نیوز کی ڈی ایس این جی پر نامعلوم افراد کریکر پھینک کر فرار ہو گئے۔
اس واقعے میں ڈان نیوز کے کیمرہ مین سمیت دو افراد زخمی ہو گئے جبکہ ادارے کی گاڑی کو معمول نقصان پہنچا ہے۔
ڈان نیوز کی ڈی ایس این جی نے نزدیک ہی دنیا نیوز کی گاڑی کھڑی تھی۔
دنیا نیوز کے مطابق اس واقعے میں ان کا ایک نامہ نگار اور عملے کا ایک رکن زخمی ہوگیا ہے۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو کے مطابق کریکر حملے میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد ہلکی نوعیت کا تھا جس کی وجہ سے زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنے پلان سی کا اعلان کرنا تھا اور اس وجہ سے سکیورٹی کے اضافی اقدامات کیے گئے تھے جس میں اسلام آباد پولیس کے علاوہ پنجاب پولیس کے اہلکار مختلف مقامات پر تعینات تھے۔
دوسری جانب پاکستان میں صحافیوں کی مرکزی تنظیم پی ایف یو جے نے اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے پیر کو احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا کی گاڑی پر اس نوعیت کے حملے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے کراچی میں نجی ٹی وی چینلز کی گاڑیوں پر حملے ہو چکے ہیں۔
فیض آباد کو اسلام آباد میں اہم ترین داخلی راستہ تصور کیا جاتا ہے اور ماضی میں یہاں کئی احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں اور پولیس سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی اسلام آباد آمد کو روکنے کے لیے اسی مقام پر کئی بار طاقت کا استعمال کر چکی ہے۔
پاکستان کو صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ملک قرار دیا جاتا ہے جہاں صحافیوں پر حملوں اور ان کی دھمکیوں کے واقعات پیش آتے ہیں جبکہ کئی واقعات میں صحافیوں کو جان سے مار دیا جاتا ہے۔







