پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت، لیکن حملے کا خطرہ بھی

’اس مرتبہ بھی غیرمسلح پولیس تعینات کی جائے گی لیکن پانی کی توپیں اور لاٹھیاں منگوائی گئی ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن’اس مرتبہ بھی غیرمسلح پولیس تعینات کی جائے گی لیکن پانی کی توپیں اور لاٹھیاں منگوائی گئی ہیں‘
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار خان کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں نے 30 نومبر کو شدت پسند تنظیموں خصوصاً کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف کے جلسے پر حملے سے متعلق معلومات ملی ہیں۔

لیکن وزیر داخلہ کے مطابق جلسے کو پرامن رکھنے کی ذمہ داری تحریک انصاف نے لی ہے۔

<link type="page"><caption> پی ٹی آئی کوڈیچوک میں جلسے کی اجازت مل گئی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/11/141128_isb_pti_allowed_demo_rk" platform="highweb"/></link>

جمعے کو ہی وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت دی ہے۔

پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں وزیر داخلہ چوہدری نثار خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جلسۂ عام کے منتظمین کے ساتھ ایک تفصیلی معاہدے پر اتفاق کیا ہے جس کے مطابق جلسہ گاہ کے اندر تمام شرکا کی سکیورٹی کی ذمہ داری پی ٹی آئی کی ہوگی۔

معاہدے کی تفصیل کےمطابق پی ٹی آئی کو اسلام آباد کے مرکز میں جناح ایونیو پر جلسہ گاہ اور پریڈ گراونڈ پر سٹیج بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

معاہدے کے تحت سٹیج کا رخ پارلیمان کی بجائے اب جناح ایوینو کی جانب ہوگا۔

جلسہ گاہ کے اندر پاکستان تحریک انصاف کے کارکن بھی سکیورٹی کی خدمات انجام دیں گے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجلسہ گاہ کے اندر پاکستان تحریک انصاف کے کارکن بھی سکیورٹی کی خدمات انجام دیں گے

معاہدے کے مطابق یہ سٹیج رات 12 بجے تک ختم کر دیا جائے گا اور لوگ پرامن طریقے سے منتشر ہوں گے۔ اس علاقے سے باہر نکلنے پر چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ سکیورٹی ادارے حرکت میں آئیں گے اور ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

اسلام آباد کو ماضی کی طرح کنٹینروں سے بند کرنے کی ماضی کی حکومتی روش کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ صرف حساس علاقوں کو بند کیا جائے گا لیکن ان کی کوشش ہوگی کہ یہ کم سے کم نصب کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ بھی غیرمسلح پولیس تعینات کی جائے گی لیکن پانی کی توپیں اور لاٹھیاں منگوائی گئی ہیں۔

فاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ پُرامن سیاسی جلسےاور احتجاج پر حکومت کو اعتراض نہیں تاہم اتوار کے روز جلسے کے شرکا ریڈ زون میں داخل نہیں ہوں گے۔

اسلام آباد کے ریڈ زون میں 31 اگست کو تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کا پولیس سے تصادم ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناسلام آباد کے ریڈ زون میں 31 اگست کو تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کا پولیس سے تصادم ہوا تھا

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری عمارتوں پر یلغار کی صورت میں قانون حرکت میں آئےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت سیاسی اور جمہوری انداز میں جلسے کے ساتھ ساتھ احتجاج کے حق میں ہے اور حکومت کسی حوالے سے بھی اس میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔

’ہماری کوشش ہے کہ یہ جلسہ جمہوری انداز میں اچھے طریقے سے ہو۔‘

تحریک انصاف اور حکومت کے مابین طے پانے والے معاہدے کی دستاویز کے مطابق شرکا کے لیے 20 واک تھرو گیٹ لگائے جائیں گے۔