پی ٹی آئی جلسہ: ’حکومت اپنی رٹ قائم کرنا جانتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 30 نومبر کو اسلام آباد میں جلسے کے انعقاد کے تناظر میں کہا ہے کہ حکومت اپنی رٹ قائم کرنا جانتی ہے اور کسی کو پارلیمان پر یلغار کی اجازت نہیں دے گی۔
جمعرات کو اسلام آباد میں پولیس لائنز ہیڈکوارٹر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومتی حکمت عملی کے مطابق اس مرتبہ دفاعی لائن میں سب سے آگے فرنٹیئر کانسٹیبلری ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کی پولیس اور انتظامیہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور پہلی مرتبہ آبی توپ یا ’واٹر کینن‘ بھی استعمال کی جائے گی۔
اُنھوں نے کہا کہ اکتیس اگست اور یکم ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کی طرف سے پارلیمنٹ ہاؤس، وزیر اعظم ہاؤس اور پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارتوں پر چڑھائی کی گئی تھی اور ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے پولیس نے اپنی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی رٹ قائم کرنا جانتی ہے اور کسی کو پارلیمان یا سرکاری اداروں پر یلغار کی اجازت نہیں دے گی۔ اُنھوں نے کہا کہ ’احتجاج اور جلسے کی اجازت تو دی جاسکتی ہے لیکن ہنگامہ آرائی کی نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس وقت آرٹیکل 245 نافذ ہے اور دارالحکومت میں ہنگامی صورتِ حال میں فوج طلب کی جا سکتی ہے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ سکیورٹی اداروں کو طلب کرنے کا مقصد سرکاری اداروں کی حفاظت کرنا ہے۔
چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ حکومت کنٹینر رکھ کر سڑکیں بند کرنے اور دیگر حفاظتی اقدامات سے متعلق 28 نومبر تک فیصلہ کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر داخلہ کے مطابق ایف سی کے اہلکاروں کو ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کی تربیت دی گئی ہے اس لیے اُنھیں دفاعی لائن میں سب سے اگے رکھا گیا ہے۔
اسلام آباد میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایف سی کو ہنگامہ آرائی روکنے کے لیے فرنٹ لائن میں رکھا گیا ہے۔ ماضی میں سب سے آگے اسلام آباد پولیس ہوتی تھی۔
اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے اکتیس اگست کے احتجاج کو روکنے کے لیے دفاعی لائن میں اسلام آباد پولیس پہلے، پنجاب اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس دوسرے، ایف سی تیسرے اور رینجرز چوتھے نمبر پر تھی۔
ایف سی کے اہلکاروں کو پولیس ٹریننگ کالج سہالہ میں ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کی تربیت دی گئی ہے جبکہ تربیت حاصل کرنے والے ایف سی کے اہلکاروں کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب ہے۔
ایف سی نیم فوجی فورس ہے اور اسے بلوے یا ہجوم سے نمٹنے کے لیے اس طرح کی تربیت نہیں دی جاتی جس طرح پولیس اہلکاروں کو مختلف اوقات میں ملتی ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اُن کے کارکنوں کو ہراساں کرنے اور مختلف جگہوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے خلاف دائر درخواست پر کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ شہر میں امن اومان کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے اور ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ حفاظتی اقدامات کی وجہ سے شہریوں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔







