’جنوبی ایشیا کو تنازعات سے پاک خطہ دیکھنے کی خواہش ہے‘

سارک اجلاس کے موقع پر پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم کی ملاقات کا امکان نہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسارک اجلاس کے موقع پر پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم کی ملاقات کا امکان نہیں

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کو تنازعات سے پاک خطہ دیکھنے کے خواہشمند ہیں جہاں غربت، جہالت، بیماری اور بےروزگاری جیسے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ’سارک‘ کے 18ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے اس تنظیم کو امن اور خوشحالی کے لیے جنوبی ایشیائی عوام کی امنگوں کی ترجمان قرار دیا۔

جنوبی ایشیا کے ممالک کی تنظیم کے سربراہ اجلاس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سارک کو بہت اہمیت دیتا ہے اور یہ پلیٹ فارم رکن ممالک میں اعتماد کی بحالی کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ خطے میں غربت اور جہالت جیسے مسائل سے نمٹنے اور قدرتی آفات اور دہشت گردی سے بچنے کے لیے تمام رکن ممالک کو تعاون کرنا ہوگا اور معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔

’امن اور خوشحالی کے لیے مربوط تعاون‘ کے عنوان کے تحت ہونے والی کانفرنس سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ سارک ممالک کی ترقی ایک دوسرے سے جڑی ہے اور اس خطے میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے لیکن رکن ممالک کے درمیان مضبوط روابط کی کمی کا نتیجہ باہمی تجارت کے حجم میں کمی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ویزہ شرائط میں نرمی سے خطے میں اقتصادی تعاون کی شرح بڑھ سکتی ہے اور رکن ممالک میں مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی ہونی چاہیے۔

پاکستانی وزیراعظم نے نیپال کی حکومت اور عوام کو کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے 19 ویں سارک کانفرنس کی میزبانی کی پیشکش بھی کی۔

نواز شریف دور روزہ سربراہ کانفرنس کے دوران متعدد ممالک کے سربراہانِ مملکت سے بھی ملیں گے لیکن خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ ان کی بھارتی وزیرِ اعظم سے جس ممکنہ ملاقات پر دنیا کی نظریں تھیں وہ ممکن نہیں ہوگی۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سارک کانفرنس میں خطاب کے دوران اپنا پانچ نکاتی ویژن پیش کیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سارک کانفرنس میں خطاب کے دوران اپنا پانچ نکاتی ویژن پیش کیا

اے ایف پی نے ایک بھارتی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے اس قسم کی کسی ملاقات کے لیے کوئی درخواست نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ سارک اجلاس میں شرکت کے لیے نیپال جاتے ہوئے نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے لیے گیند بھارت کی کورٹ میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دو طرفہ مذاکرت کی منسوخی بھارت کا یک طرفہ فیصلہ تھا اور اب ان کی بحالی کا سوال بھی بھارت سے کیا جانا چاہیے۔

نریندر مودی کا خطاب

دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سارک کانفرنس میں ممبئی حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’دہشت گردی کے مسئلے‘ کا مل کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کی حفاظت اور لوگوں کی زندگی کے بارے میں حساس ہونا ہوگا اور اس علاقے کو ترقی اور خوشحالی کی ایک نئی اونچائی تک لے جانا ہوگا۔

انھوں نے سارک ممالک میں تجارت اور روابط کے مسئلے کے بارے میں کہا: ’ایک پنجاب سے دوسرے پنجاب میں سامان پہنچنے میں کراچی اور دبئی سے بھی کئی گنا زیادہ وقت اور پیسے خرچ ہوتے ہیں۔ ہمیں کاروبار کے براہ راست راستوں کا استعمال کرنا چاہیے۔‘

مودی نے کہا: ’بھارت میں بنیادی ڈھانچے پر کام کرنا میری ترجیحات میں شامل ہے۔ ہمیں اپنی سارے عمل اور ویزے کے نظام کو آسان بنانا ہوگا تاکہ سارک ممالک کے درمیان تجارت کا فروغ ہو۔‘

انھوں نے خطاب کے دوران اپنا پانچ نکاتی ویژن پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری، امداد، تعاون اور رابطوں کے ذریعے لوگوں کے درمیان رابطے کو بڑھانا چاہیے۔

ادھر افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی نے سارک اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کو اپنے وطن میں ’پراکسی جنگ‘ کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنی سرزمین کو اپنے ہمسایوں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی ہماری سرزمین پر کوئی اپنی آلۂ کار قوتوں کے ذریعے جنگ کر سکے گا۔‘