دم توڑتا ہوا فنِ سنگ تراشی

سوات سے تعلق رکھنے والے محمد قیوم فہیم بھی چترکاری کے ان ماہر کاریگروں میں شمار ہوتے ہیں
،تصویر کا کیپشنسوات سے تعلق رکھنے والے محمد قیوم فہیم بھی چترکاری کے ان ماہر کاریگروں میں شمار ہوتے ہیں
    • مصنف, سید انور شاہ
    • عہدہ, سوات

مجسمہ سازی ایک قدیم فن ہے اور اس کے ماہر زمانۂ قدیم سے لے کر اب تک اپنے فن کے جوہر دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

سنگ تراشی کی تاریخ لاکھوں سال پرانی بتائی جاتی ہے تاہم پاکستان میں اب یہ فن معدوم ہوتا جا رہا ہے۔

سوات سے تعلق رکھنے والے محمد قیوم فہیم بھی چترکاری کے ان ماہر کاریگروں میں شمار ہوتے ہیں جو پتھروں سے گھریلو سامان بنانے کے علاوہ ان پر قرآنی آیات کو خوبصورتی سے نقش کرتے ہیں۔

سنگ تراشی کی تاریخ لاکھوں سال پرانی بتائی جاتی ہے تاہم پاکستان میں اب یہ فن معدومیت کا شکار ہے
،تصویر کا کیپشنسنگ تراشی کی تاریخ لاکھوں سال پرانی بتائی جاتی ہے تاہم پاکستان میں اب یہ فن معدومیت کا شکار ہے

ان کا کہنا ہے کہ وہ سات سال سے یہ کام کر رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ یہ فن کم ہونے کی بجائے ترقی کرے اور اگلی نسلوں میں منتقل ہو۔

وادی سوات میں پتھروں پر فن پارے تخلیق کرنے کا کوئی شو روم یا دکان تو نہیں ہے تاہم اس فن سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد محمد قیوم کی دکان پر ان فن پاروں کو دیکھنے کے لیے آتی ہے۔

وادئ سوات میں پتھروں پر فن پارے تخلیق کرنے کا کوئی شو روم یا دکان تو نہیں ہے تاہم اس فن سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد محمد قیوم کی دکان پر ان فن پاروں کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں
،تصویر کا کیپشنوادئ سوات میں پتھروں پر فن پارے تخلیق کرنے کا کوئی شو روم یا دکان تو نہیں ہے تاہم اس فن سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد محمد قیوم کی دکان پر ان فن پاروں کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں

ان فن پاروں کو تخلیق کرنے کے لیے دریا سے ایک مخصوص پتھر لایا جاتا ہے جسے ’سوپ سٹون‘ کہا جاتا ہے۔ اس پتھر کی خاصیت یہ ہے کہ تخلیق کے دوران یہ ٹوٹتا نہیں ہے۔

آثار قدیمہ کے ماہر سکندر بخت نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجسمہ سازی اور پتھروں پر فن پارے تخلیق کرنے کے عمل کی ابتدا گندھارا آرٹ سے ہوئی جس کے بانی بدھ مت کے پیروکار اور یونانی تھے، تاہم حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے اب یہ قدیم فن زوال کی جانب گامزن ہے۔‘

ان فن پاروں کو تخلیق کرنے کے لیے دریا سے ایک مخصوص پتھر لایا جاتا ہے جسے ’سوپ سٹون‘ کہا جاتا ہے۔ اس پتھر کی خاصیت یہی ہے کہ تخلیق کے دوران یہ ٹوٹتا نہیں ہے
،تصویر کا کیپشنان فن پاروں کو تخلیق کرنے کے لیے دریا سے ایک مخصوص پتھر لایا جاتا ہے جسے ’سوپ سٹون‘ کہا جاتا ہے۔ اس پتھر کی خاصیت یہی ہے کہ تخلیق کے دوران یہ ٹوٹتا نہیں ہے

ان کا کہنا تھا کہ اس فن سے وابستہ افراد کی اکثریت غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہے اور ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ اس کام میں کو بڑے پیمانے پر شروع کرسکیں۔

سکندر بخت کے مطابق سوات میں 1400 پرانے اسٹوپے موجود ہیں تاہم حکومتی عدم دلچسپی کے باعث یہ تاریخی آثار خطرات سے دوچار ہیں۔

چتر کاری ایک محنت طلب اور کل وقتی کام ہے جس میں ایک فن پارے کو تخلیق کرنے میں بعض اوقات ہفتے اور مہینے لگ جاتے ہیں
،تصویر کا کیپشنچتر کاری ایک محنت طلب اور کل وقتی کام ہے جس میں ایک فن پارے کو تخلیق کرنے میں بعض اوقات ہفتے اور مہینے لگ جاتے ہیں

دوسری جانب زمانے کی تیز رفتار ترقی، جدید سازوسامان اور سہولتوں نے اس فن کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ ایک پتھر پر کئی دنوں کی محنت اور ہاتھ کی کاریگری سے ایک شاہکار تخلیق کیا جاتا ہے اب وہی کام سنگِ مرمر اور دیگر مصنوعی ٹائلوں پر کمپیوٹر گرافکس اور دیگر مشینری سے با آسانی ہو جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ خطاطی مسلمانوں کا ایک عظیم ورثہ ہے جبکہ ماضی میں بھی مسلمانوں نے آرٹ اور تہذیب کے شاہکار تخلیق کیے
،تصویر کا کیپشنکہا جاتا ہے کہ خطاطی مسلمانوں کا ایک عظیم ورثہ ہے جبکہ ماضی میں بھی مسلمانوں نے آرٹ اور تہذیب کے شاہکار تخلیق کیے

چتر کاری ایک محنت طلب اور کل وقتی کام ہے جس میں ایک فن پارے کو تخلیق کرنے میں بعض اوقات ہفتے اور مہینے لگ جاتے ہیں تاہم نئی تکنیکی سہولیات نے اس فن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ خطاطی مسلمانوں کا ایک عظیم ورثہ ہے کیونکہ ماضی میں بھی مسلمانوں نے آرٹ اور تہذیب کے شاہکار تخلیق کیے اور آج بھی خطاطی میں ان کی بہترین فنکارانہ صلاحیتوں کو ایک دنیا مانتی ہے۔