افغان صدر دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

پاک افغان تعلقات اور افغانستان سے امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلا کے تناظر میں صدر اشرف غنی کا دورۂ پاکستان بہت اہم سمجھا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہb

،تصویر کا کیپشنپاک افغان تعلقات اور افغانستان سے امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلا کے تناظر میں صدر اشرف غنی کا دورۂ پاکستان بہت اہم سمجھا جا رہا ہے
    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد

افغانستان کے نو منتخب محمد اشرف غنی پاکستان کے دو روزہ دورے پر جمعے کواسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

صدر منتخب ہونے کے بعد اشرف غنی کا یہ پہلا دورۂ پاکستان ہے اور ان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان پہنچا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا تھا کہ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت پاک افغان سرحد پر دہشت گردی کے واقعات، افغان سرحدی حدود میں پاکستانی طالبان قیادت کی موجودگی، اور پاکستان کے راستے نیٹو افواج کے انخلا سمیت بہت سے مسائل پر بات چیت کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ نو منتخب افغان صدر اشرف غنی اور دونوں ممالک کے مابین مختلف منصوبوں پر دستخط بھی ہوں گے۔

ترجمان کے مطابق افغان صدر کو پرامن انتقالِ اقتدار کی پاکستان نے نہ صرف ہر سطح پر حمایت کی بلکہ صدر پاکستان ممنون حسین، اشرف غنی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر کابل بھی گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اس سال اکتوبر میں کابل کا دورہ کیا اور نواز شریف کی جانب سے نومنتخب افغان صدر کو دورۂ پاکستان کی دعوت دی تھی۔

پاکستان کی سیاسی قیادت کے علاوہ فوجی قیادت نے بھی نئی افغان حکومت سے رابطہ کیا۔

تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف چھ نومبر کو کابل گئے تاکہ افغانستان کے ساتھ اچھے اور قریبی تعلقات قائم کر کے خطے میں قیام امن کےلیے کوششوں کے ساتھ ساتھ تجارت میں اضافہ کیا جا سکے۔

ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں نئی قیادت آنے کے بعد پاکستان کے لیے خصوصی موقع ہے کہ افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے۔

افغان صدرکے دورہ پاکستان کے موقع پر دوطرفہ تعلقات، سیاسی مسائل، معاشی تعاون، سرحدی امور اور دہشت گردی کےخلاف جنگ، افغانستان کی دوبارہ تعمیر و ترقی اورعوامی سطح پر رابطوں میں اضافے پر بھی غور کیا جائے گا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کا دار و مدار اعتماد اور ثقافت پر منحصر ہے۔ اس کے علاوہ دونوں اقوام کا جغرافیہ اور اکثر مسائل بھی مشترکہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر دونوں ممالک ایک دوسرے کاساتھ دینے کے لیے ہ روقت تیار رہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے تاحال لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کا سلسلہ جاری رکھا ہے، جبکہ خطےمیں امن واستحکام دونوں ممالک کے وسیع ترمفاد میں ہے۔

تسنیم اسلم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم دو ارب امریکی ڈالرتک پہنچ چکا ہے، پاکستان افغانستان کو چاول، پیٹرولیم کی مصنوعات،گوشت اورسبزیوں کے علاوہ روزمرہ کے استعمال کی چیزوں کی برآمدات میں اضافے کا خواہشمند ہے۔

’افغانستان سے فروٹ، سبزیاں، کمبل اور دیگر چیزوں کی درآمد میں اضافہ کرنےکو بھی زیر غور لایا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ تاکہ پاکستان کے زمینی اور سمندری راستے کے ذریعےعالمی منڈی تک افغانستان کی تجارت میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نےگذشتہ سال نومبر میں دورہ کابل کے موقع پر افغانستان کی دوبارہ تعمیر و ترقی کے لیے مختص کردہ 35 کروڑ ڈالر کی رقم کو بڑھا کر50 کروڑ ڈالر کر دیا تھا۔

’تعلیم وتربیت، صحت، مواصلات اور دیگر شعبوں میں افغان عوام کی استعداد کار میں اضافہ کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، اس کے علاوہ پاکستان نے افغان فورسز کی دفاعی استعداد بڑھانے کے لیے دو کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں۔‘

جبکہ تعلیم کے فروغ کے لیے افغان طلبہ کے لیے پہلے سے ہی تین ہزار سکالر شپ منظور ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ چھ سو طلبہ پاکستان کے مختلف اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

اس طرح پاکستان کے مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل 30 ہزار افغان نوجوان اس وقت افغانستان کی قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہاں بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ نو منتخب افغان صدر ایک ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب اس سال کے آخر تک افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا شروع ہو جائے گا۔

ان ماہرین کے مطابق پاکستان کو اشرف غنی کے دورے سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں، کیونکہ ماضی میں سابق صدر حامد کرزئی کے ساتھ پاکستان کی موجودہ قیادت کے تعلقات کچھ زیادہ اچھے نہیں رہے۔